رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت سنجیدہ ہو تو مذاکرات کے لیے تیار ہیں: نواز شریف


نئی دہلی کا موقف رہا ہے کہ وہ بھی پڑوسی ملک سے بات چیت کا خواہاں ہے لیکن اس کے بقول دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ اگر بھارت کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہے تو ان کا ملک تمام تصفیہ طلب معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی "اے پی پی" کے مطابق وزیراعظم نے یہ بات ہفتہ کو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔ نواز شریف ہفتہ کو ہی اپنے تین روزہ دورہ آذربائیجان سے وطن واپس پہنچے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کئی بار تصفیہ طلب معاملات پر بات چیت کی پیشکش کی لیکن ان کے بقول بھارت کی طرف سے اس کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ ان کے بقول مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے جس کے حل کے لیے بھارت کو سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

بھارت کی طرف سے پاکستانی وزیراعظم کے اس بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن نئی دہلی کا موقف رہا ہے کہ وہ بھی پڑوسی ملک سے بات چیت کا خواہاں ہے لیکن اس کے بقول دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

بھارت اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی خصوصاً اپنے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے جسے اسلام آباد سختی سے مسترد کر چکا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی کشمیر میں تین ماہ سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہیں اور وہاں بھارت مخالف مظاہروں کے دوران ایک سو کے لگ بھگ لوگوں کی ہلاکت پر پاکستانی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینے کا کہتا آرہا ہے۔

بھارت پاکستان کی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔

ہفتہ کو ہی پاکستان کے صدر ممنون حسین نے بھی عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کی صورتحال پر توجہ دے بصورت دیگر ان کے بقول بھارتی کشمیر میں حالات اسی رفتار سے خراب ہوتے گئے تو کوئی سنگین انسانی سانحہ بھی جنم لے سکتا ہے۔

وہ مظفر آباد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے لیکن اس کے لیے کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ بھارتی خلاف ورزیوں کو بند کیا جانا ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG