رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان نے قندھار حملے سے متعلق الزامات مسترد کر دیے


صدر اشرف غنی منگل کو قندھار کے دورے کے دوران عمائدین سے مل رہے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل حکومت نے قندھار حملے سے متعلق اپنے دعوؤں کے حق میں ٹھوس شواہد اور معلومات کا پاکستان کے ساتھ تبادلہ نہیں کیا ہے۔

پاکستان نے قندھار حملے سے متعلق افغان صدر اشرف غنی کے الزمات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قندھار حملے کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر پاکستان میں کی گئی تھی۔

گزشتہ ہفتے قندھار میں گورنر کی رہائش گاہ میں ہونے والی فائرنگ سے صوبائی پولیس اور انٹیلی جنس کے سربراہان ہلاک ہوگئے تھے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے منگل کو قندھار کے دورے کے دوران کہا تھا کہ قندھار پولیس کے صوبائی سربراہ عبدالرازق کے قتل کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر پاکستان میں کی گئی تھی۔

انہوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس مبینہ منصوبے میں ملوث افراد کو افغانستان کے حوالے کرے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ ںے بدھ کو ایک بیان میں افغان صدر کے الزام پر اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ کابل حکومت نے قندھار حملے سے متعلق اپنے دعوؤں کے حق میں ٹھوس شواہد اور معلومات کا پاکستان کے ساتھ تبادلہ نہیں کیا۔

دفترِ خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ایسے واقعات کی تحقیقات کے لیے بہتر ہوتا کہ میڈیا کے ذریعے الزام تراشی کے بجائے 'افغانستان پاکستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سالیڈیرٹی' کے منظم میکینزم کے تحت متعلقہ طریقۂ کار کو اختیار کیا جاتا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت کا طریقۂ کار رواں سال پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعاون کے طے پانے والے سات نکاتی اتفاقِ رائے کے برعکس ہے۔

منگل کو افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار کے دورے کے دوران صدر اشرف غنی حملے میں ہلاک ہو نے والے قندھار پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرازق کے گھر گئے تھے اور ان کی والدہ اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی تھی۔

ایک افغان سکیورٹی گارڈ نے یہ حملہ اس وقت کیا تھا جب قندھار میں عام انتخابات کی سکیورٹی سے متعلق ایک اجلاس کے لیے اعلیٰ حکومتی اہلکار گورنر ہاؤس میں موجود تھے۔

اس حملے میں دو امریکی بھی زخمی ہوئے تھے جن میں ایک فوجی اور ایک سویلین شامل تھا۔

پاکستان قندھار میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی پہلے ہی مذمت کر چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG