رسائی کے لنکس

logo-print

برکس اعلامیہ مسترد کرتے ہیں، وزیرِ دفاع خرم دستگیر


خرم دستگیر کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر غیر ضروری خطرے کی گھنٹیاں بجائی جا رہی ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع خرم دستگیر خان نے برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل 'برکس' گروپ کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان نہیں بلکہ افغانستان میں ہیں۔

چین کے شہر شیامن میں ہونے والے 'برکس' کے سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں مبینہ طور پر پاکستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں کے ناموں کی شمولیت کو ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی ایک بڑی فتح قرار دیا جارہا ہے۔

چین عام طور پر اپنے اتحادی ملک پاکستان کی حمایت کرتا ہے اور متعدد مرتبہ جیش محمد کو اقوامِ متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرانے سے متعلق بھارتی کوششوں کو ناکام بنا چکا ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں پاکستانی پارلیمان کی دفاع سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کے 40 فی صد اضلاع پر افغان فورسز کا کنٹرول نہیں ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناگاہیں افغانستان میں ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہیں نہیں لیکن ان کے بقول عالمی برادری نے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے بڑے بڑے کامیاب آپریشن کیے جو امریکہ عراق اور افغانستان میں نہ کرسکا۔

خرم دستگیر کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر غیر ضروری خطرے کی گھنٹیاں بجائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی رہنما موجودہ صورتحال میں جذباتی بیانات نہ دیں۔ ان کے بقول پاکستان کے اپنے اور امریکہ کے اپنے مفادات ہیں لیکن دہشت گرد تنظیم داعش کے معاملے پر پاکستان اور امریکہ ایک ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو میں وزیرِ دفاع نے بتایا کہ رواں ہفتے وزیر خارجہ خواجہ آصف چار اہم ممالک کے دورے پر روانہ ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیرِ خارجہ پہلے چین، روس، ترکی اور ایران جائیں گےجس کے بعد وہ امریکہ کا دورہ کریں گے۔

ایک سوال پر خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ پاکستان روہنگیا مسلمانوں کے معاملے کا جائزہ لے رہا ہے اور اس سلسلے میں جلد پالیسی وضع کریں گے۔

XS
SM
MD
LG