رسائی کے لنکس

logo-print

حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کی خبریں پاکستان اور چین نے مسترد کردیں


چین کے شہر ووہان میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف وائرلوجی کی عمارت، جہاں وائرسوں پر تحقیق کی جاتی ہے۔

حال ہی میں ایسی میڈیا رپورٹیں سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ چین اور پاکستان مل کر حیاتیاتی ہتھیار تیار کر رہے ہیں۔ دونوں ملکوں نے ایسی اطلاعات کو بے سروپا اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

آسٹریلیا میں شائع ہوئی ایک خبر میں کہا گیا کہ چین اور پاکستان بین الاقوامی سمجھوتوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ طور پر حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری پر تحقیق کر رہے ہیں۔ پاکستان اور چین، دونوں نے اس خبر کو بے سروپا اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

کیلاکسن نیوز نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان ایک تین سالہ معاہدہ طے پایا ہے کہ دونوں مل کر حیاتیاتی جنگی ہتھیاروں کی تیاری پر تحقیق کریں گے۔

رپورٹ میں متعدد انٹیلی جینس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چین کے انسٹی ٹیوٹ آف وائرالوجی اس سلسلے میں مالی اور سائنسی امداد فراہم کر رہا ہے۔ وہ پاکستانی سائنس دانوں کو تربیت بھی دے رہا ہے۔

اتوار کو پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس خبر کے پیچھے مکروہ سیاسی عزائم ہیں۔ یہ خبر گمراہ کن ہے اور اس میں حقائق کو منسخ کر کے من گھڑت ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی کسی خفیہ لیبارٹری کا وجود نہیں ہے۔ ایک لیبارٹری ہے جس میں صحت سے متعلقہ خطرات سے بچاؤ، ان کی نگرانی اور امراض کے پھوٹنے کے بارے میں تحقیق کی جاتی ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان سختی سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے اور ان پر عمل کرتا ہے۔ رپورٹ میں جس تجربہ گاہ کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کے بارے میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن کو باخبر رکھا جاتا رہا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خاص طور سے کوویڈ 19 کی وبا کے پس منظر میں اس طرح ایک تجربہ گاہ کے متعلق بے بنیاد خبر شائع کرنا سراسر الزام تراشی کے مترادف ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ بیماریوں کی وسیع پیمانے پر نگرانی کی جائے۔ ان پر قابو پایا جائے اور اس معاملے میں بین الاقوامی سطح پر مل جل کر کام کیا جائے۔

پاکستان میں چینی سفارت خانے نے بھی آسٹریلیا کے میڈیا کی اس خبر کو من گھڑت کہہ کر اس کی مذمت کی ہے۔ چینی سفارت خانے نے اسے غیر ذمہ دارانہ، اور پاکستان چین تعلقات کو خراب کرنے کی ایک زہریلی کوشش قرار دیا ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں سفارت خانے نے کہا ہے کہ چین نے ہمیشہ بین الاقوامی حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن کی پاسداری کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG