رسائی کے لنکس

افغان امن عمل سے متعلق سابق کینیڈین سفارت کار کے بیان پر پاکستان کا سخت ردِعمل


دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں الیگزینڈر کے بیان کو افغانستان کے معروضی حقائق اور معاملات سے مکمل لا علمی پر مبنی قرار دیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں الیگزینڈر کے بیان کو افغانستان کے معروضی حقائق اور معاملات سے مکمل لا علمی پر مبنی قرار دیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کینیڈا کے سابق وزیر اور سفارت کار کرس الیگزینڈر کے افغان امن عمل میں پاکستان اور وزیر اعظم عمران کے کردار سے متعلق دیے گئے بیان کی سخت مذمت کی ہے اور ان کے الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں کرس الیگزینڈر کے بیان کو افغانستان کے معروضی حقائق اور معاملات سے مکمل لا علمی پر مبنی قرار دیا ہے۔

کرس الیگزینڈر نے ہفتے کو ایک ٹوئٹ میں وزیرِ اعظم عمران خان پر طالبان کے مؤقف کو فروغ دینے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان پر تعزیرات عائد ہونی چاہئیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں یہ بیانات قابلِ افسوس ہیں جب دنیا پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان کے دیرینہ مؤقف کو تسلیم کرتی ہے کہ افغانستان کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

ترجمان زاہد حفیظ نے مزید کہا کہ "پاکستان نے یہ معاملہ کینیڈا کے ساتھ اٹھایا ہے اور ہم نے کینیڈین حکام پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف بدنیتی پر مبنی اس مہم کو روکیں۔"

یاد رہے کہ کرس الیگزینڈر ماضی میں افغاستان میں کینیڈا کے سفیر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں اور قبل ازیں وہ افغانستان کے معاملات میں پاکستان کی مبینہ مداخلت کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔

ان کا تازہ ترین بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا عمل رواں ماہ کے اواخر میں مکمل ہو جائے گا۔

دوسری جانب طالبان کی کارروائیوں میں شدت دیکھی جارہی ہے اور افغانستان کے بعض جنوبی شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

افغان حکومت کے بعض رہنما پاکستان پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ پاکستان طالبان کی مدد کر رہا ہے۔

افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے بھی اتوار کو پاکستان پر طالبان کی حمایت کا الزام عائد کیا تھا۔

لیکن پاکستان ایسے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ پاکستان افغانستان کے معاملے میں غیر جانب دار ہے اور اسلام آباد کسی فریق کا حامی نہیں ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے وزیرِ اعظم کے سامنے آنے والے مختلف بیانات میں عمران خان نے افغانستان کی صورتِ حال کا ذمے دار پاکستان کو ٹھیرانے کو باعثِ افسوس قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان افغانستان میں جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس کا ذمے دار پاکستان نہیں ہے۔

ان کے بقول پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔

الیگزینڈر نے پاکستان کے دفترِ خارجہ کے بیان کے ردِعمل میں عمران خان، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مؤقف کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے انہیں ان تمام لوگوں کی توہین قرار دیا ہے جو افغانستان کے امن و استحکام کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح نے ایک ٹوئٹ میں کینیڈا کے سابق وزیر کے ٹوئٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG