رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت بے بنیاد اشتعال انگیزی سے گریز کرے: پاکستان


ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ محمد فیصل (فائل فوٹو)

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ دیکھا جا رہا ہے اور گزشتہ اتوار سے دونوں جانب سے ایک دوسرے پر صورت حال کو کشیدہ کرنے کے الزامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔

منگل کو پاکستان نے بھارت کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ اسلام آباد بھارتی یاتریوں کو "خالصتان" کے معاملے پر اکسا رہا ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ بھارت نے ایسی جھوٹی خبریں پھیلا کر دانستہ طور پر سکھ یاتریوں کے دورے سے متعلق تنازع کو برانگیخت کیا۔

"سکھ برادری بھارت میں ایک متنازع فلم کے خلاف پہلے سے ہی سراپا احتجاج تھی اور بھارت اور دنیا کے دیگر حصوں میں یہ مظاہرے سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد سے پہلے ہی شروع ہو چکے تھے۔ اس صورت حال کی موجودگی اور سکھ یاتریوں کی طرف سے بھارتی حکام سے ملاقات سے واضح انکار پر بھارتی ہائی کمشنر نے 14 اپریل کو (پنجہ صاحب کا) دورہ منسوخ کر دیا۔"

بیان کے مطابق بھارت کی طرف سے "حقائق سے ہٹ کر اور سچ کو مسخ کرنے" کی کوششیں غیر اخلاقی اور افسوسناک ہیں۔

بھارت نے پیر کو نئی دہلی میں تعینات نائب پاکستانی ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے اسلام آباد کی طرف سے "خالصتان" کے معاملے کو بڑھاوا دینے پر احتجاج کیا تھا۔

بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ایسے مختلف مقامات جہاں یاتریوں نے دورہ کیا "اشتعال انگیز بیانات" اور پوسٹرز دیکھے گئے۔۔۔پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ایسی سرگرمیوں کو بند کرے جو کہ بھارت کی خودمختاری، جغرافیائی سالمیت اور بھارت میں بدانتظامی کو بھڑکانے کی کوشش ہیں۔"

پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک ایسا ملک جس کے اعلیٰ ترین عہدیداران پاکستان کی جغرافیائی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف بیانات دے چکے ہیں، "وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر منافقت کر رہا ہے۔"

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کو بین الاقوامی اور بین الریاستی اقدار اور تمام مذاہب خصوصاً اقلیتوں کا احترام کرنا چاہیے اور ایسے بے بنیاد اشتعال میں الجھنے سے گریز کرنا چاہیے جو صرف پہلے سے خراب ماحول میں مزید بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG