رسائی کے لنکس

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں: دفترِ خارجہ


پاکستان کے دفتر خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور اس ضمن میں وزیر اعظم پر امریکی دباؤ کی خبریں من گھڑت ہیں۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم واضح کر چکے ہیں کہ فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل تک پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا۔

دفترِ خارجہ نے یہ وضاحت ان میڈیا رپورٹس پر جاری کی ہے جن میں وزیر اعظم عمران خان کے ایک ٹی وی انٹرویو کو منسوب کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان پر امریکہ کا دباؤ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اس سلسلے میں پاکستان کی پالیسی بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کے ویژن پر مبنی ہے اور عمران خان کے واضح مؤقف کے بعد قیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں اور دارالحکومت القدس پر مشتمل فلسطین کا حامی ہے۔ بیان کے مطابق پاکستان اقوامِ متحدہ، اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی ہے۔

'عرب ممالک کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اُن کی مجبوری ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:05:34 0:00

خیال رہے کہ حال ہی میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے معاہدے اور اعلانات کر رکیے ہیں جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق بہت سے دیگر اسلامی ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم کے انٹرویو کی دستیاب ویڈیو میں میں سنا جا سکتا ہے کہ میزبان کے سوال کے جواب میں عمران خان کہتے ہیں کہ ان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے دباؤ اس لیے ہے کہ تل ابیب کا امریکہ پر اثر و رسوخ ہے اور واشنگٹن کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی میں صدر ٹرمپ پر اسرائیل کا بہت زیادہ اثر تھا۔

تاہم وزیر اعظم نے اپنے مؤقف کو دوہرایا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے کیوں کہ اس پر بانیٔ پاکستان محمد علی جناح بھی واضح کر چکے ہیں کہ آزاد فلسطین ریاست کے قیام تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کیے جائیں گے۔

انٹرویو کے دوران جب میزبان نے یہ پوچھا کہ یہ دباؤ غیر مسلم ممالک کی جانب سے ہے یا مسلم بھی اس میں شامل ہیں تو عمران خان نے اس کا براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ بعض باتیں وہ اس لیے نہیں کر سکتے کہ پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ اچھے مراسم ہیں اور ہم انہیں متاثر نہیں کرنا چاہتے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب پاکستان ایک مستحکم ریاست بن جائے گا تو وہ اس نوعیت کے سوالات کے جواب دینے کے قابل ہوں گے۔

گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے وائس آف امریکہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ بعض عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا ان کی خارجی و داخلی مجبوریوں کے سبب ہے۔ تاہم پاکستان فلسطین کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت کے اصولی مؤقف سے انحراف نہیں کر سکتا۔

پاکستان کے اعلی سفارت کار نے کہا تھا کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا بنیادی اُصول کے خلاف ہو گا اور پاکستان اس قدر کمزور ریاست نہیں ہے کہ اسے بنیادی اُصول سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔

متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے اسرائیل کے ساتھ سمجھوتوں کو فلسطین نے مسترد کر دیا تھا جب کہ ایران اور ترکی سمیت کئی مسلم ممالک نے ان اسلامی ممالک کے اس عمل پر تنقید کی تھی۔ البتہ بعض اسلامی ممالک نے اس حوالے سے محتاط ردعمل دیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد اگست میں واضح کیا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو بطور ریاست اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گا جب تک وہ فلسطین کو آزادی نہیں دے دیتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل کو تسلیم کر لیا تو پاکستان کو کشمیر سے بھی دست بردار ہونا پڑے گا۔

XS
SM
MD
LG