رسائی کے لنکس

logo-print

اقلیتوں کے معاملے پر کسی ملک کا مشورہ نہیں چاہیے: پاکستان


پاکستان کے شہر پشاور کے ایک گرجا گھر میں مسیحی اقلیت سے تعلق رکھنے والے عبادت میں مصروف ہیں۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں امریکی فہرست کو یک طرفہ اور سیاسی بنیادوں پر کیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فہرست سراسر تعصب پر مبنی ہے۔

پاکستان نے امریکہ کی جانب سے اسے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں امریکی فہرست کو یک طرفہ اور سیاسی بنیادوں پر کیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فہرست سراسر تعصب پر مبنی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے دنیا کے مختلف ملکوں میں مذہبی آزادی کی صورتِ حال سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ منگل کو جاری کی ہے۔ فہرست میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں رکھا گیا ہے جہاں مذہبی آزادی کی صورتِ حال بطورِ خاص تشویش ناک ہے۔

اس فہرست میں پاکستان کے علاوہ میانمار، چین، ایران، سوڈان، سعودی عرب، ترکمانستان، تاجکستان، اریٹیریا اور شمالی کوریا بھی شامل ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق فہرست میں وہ ممالک شامل ہیں جہاں حکومتیں مذہبی آزادی کی شدید، منظم اور مسلسل پامالی میں یا تو خود ملوث ہیں یا انہوں نے ان معاملات پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

امریکی رپورٹ پر پاکستان کا ردِ عمل

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے امریکی فہرست پر اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ اپنے تئیں یہ فہرست مرتب کرنے والے خود ساختہ منصفوں کی اپنی ساکھ اور غیر جانب داری پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔

وزارتِ خارجہ نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا ایک منظم عدالتی اور انتظامی طریقۂ کار موجود ہے اور اسے اپنی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق کسی دوسرے ملک کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔

بیان کے مطابق دنیا میں انسانی حقوق کے علمبرداروں نے جموں و کشمیر جیسی جگہوں پر روا رکھے جانے والے منظم مظالم پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

بیان میں امریکہ کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ خود بھی اپنے ہاں اسلامو فوبیا اور یہود مخالف جذبات میں اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے اپنا محاسبہ کرے۔

دفترِ خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ایک کثیر مذہبی اور تکثیری معاشرہ ہے جہاں مختلف عقائداور مذاہب کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ پاکستان کی کل آبادی کا چار فی صد اقلیتوں پر مشتمل ہے جن کے انسانی حقوق کا بلاامتیاز تحفظ آئینِ پاکستان کا بنیادی اصول ہے اور ہمیشہ حکومتِ پاکستان کی ترجیح رہا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے مذہبی آزادی سیموئل براؤن بیک صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے مذہبی آزادی سیموئل براؤن بیک صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

'پاکستان کی صورتِ حال پر تشویش ہے'

منگل کو فہرست کے اجرا کے موقع پر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکہ کے سفیر برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی سیموئل ڈی براؤن بیک کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کی صورتِ حال پر کچھ عرصے سے لوگوں کی نظر تھی۔

انہوں نے کہا کہ سابق امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے گزشتہ سال پاکستان کو ان ملکوں کی فہرست میں شامل کیا تھاجہاں مذہبی آزادی کی صورتِ حال پر امریکہ بطورِ خاص نظر رکھتا ہے۔

ان کے بقول اس فہرست میں شامل کرنے کا مقصد پاکستان کو خبردار کرنا تھا کہ اگر اس نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے ان ممالک میں شامل کرلیا جائے گا جہاں کی صورتِ حال پر امریکہ کو تشویش ہے۔

براؤن بیک نے بتایا کہ صورتِ حال کے جائزے کے بعد موجودہ وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان کی صورتِ حال متقاضی ہے کہ اسے تشویش والے ممالک میں شامل کیا جائے۔

امریکی ایلچی کا کہنا تھا پاکستان کی اس فہرست میں شمولیت کی کئی وجوہات ہیں جن میں سرِ فہرست توہینِ مذہب سے متعلق قوانین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں توہینِ مذہب کے الزام میں قید افراد کی مجموعی تعداد کا نصف پاکستان کی جیلوں میں ہیں جب کہ پاکستان کی حکومت نے احمدیوں پر خود کو مسلمان کہلانے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فہرست میں شمولیت کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی حکومت اکثر ان افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہتی ہے جو مذہبی اقلیتوں کے خلاف ان کے عقائد کی بنیاد پرتشدد اور قتل جیسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔

براؤن بیک نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے گی اور ان کے بقول اس بارے میں پاکستان سے بعض مثبت اشارے ملے ہیں۔

XS
SM
MD
LG