رسائی کے لنکس

پاکستان ںے 68 بھارتی ماہی گیر رہا کردیے


(فائل فوٹو)

وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل پاکستان نے 13 اکتوبر کو دو بھارتی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

پاکستان نے 68 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں واہگہ سرحد کے ذریعے اُن کے ملک منتقل کیا جائے گا۔

وزارتِ خارجہ سے پیر کو جاری ایک بیان کے مطابق ماہی گیروں کی رہائی کا یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ان ماہی گیروں کو پاکستان کی آبی حدود کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل پاکستان نے 13 اکتوبر کو دو بھارتی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

بیان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق معاملات کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے اور اُن کو حل کیا جائے۔

آبی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان اور بھارت دونوں ہی ایک دوسرے کے ماہی گیروں کو حراست میں لیتے رہتے ہیں جنہیں بعد میں رہا کر دیا جاتا ہے۔

ماہی گیروں کی طرف سے آبی حدود کی خلاف ورزی کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اُن کی کشتیوں میں سمت اور حدود کا تعین کرنے والے جدید آلات نہیں ہوتے اور وہ نادانستہ طور پر دوسرے ملک کی سمندری حدود میں چلے جاتے ہیں جس پر اُنھیں تحویل میں لے لیا جاتا ہے۔

رواں سال یکم جولائی کو قیدیوں کی فہرستوں کے تبادلے کے مطابق پاکستانی جیلوں میں 494 ماہی گیروں سمیت 546 بھارتی شہری قید تھے۔

دونوں ملک ایک طہ شدہ طریقہ کار کے تحت ہر سال یکم جولائی کو اپنے اپنے ملکوں میں بند قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔

اگرچہ ایسے قیدیوں کو سزا مکمل کرنے پر رہا کر دیا جاتا ہے لیکن ایسی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ سزائیں مکمل ہونے کے باوجود کئی ماہی گیروں کو جیلوں میں وقت گزارنا پڑا۔

ایسے واقعات کی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تناؤ اور رابطوں میں کمی بتائی جاتی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں اور دونوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی بند ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان خاص طور پر کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائن ’ایل او سی‘ اور ’ورکنگ باؤنڈری‘ پر پاکستانی اور بھارتی فوجوں کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات میں دونوں جانب شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک مارے جا چکے ہیں۔

اس کشیدگی سے دونوں ہی جانب سرحد کے قریب آباد شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اُن کے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG