رسائی کے لنکس

انتقاماً زیادتی کا واقعہ فریقین کی رضا مندی سے ہوا: رپورٹ


راجاپور گاؤں کا وہ مقام جہاں پنچائیت فیصلے کے جمع ہوئی۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں پولیس نے بتایا ہے کہ غیر قانونی پنچایت کے تمام شرکا کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ایک ہفتے کے اندر چالان عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

پنچایت کے حکم پر انتقاماً جنسی زیادتی کے مبینہ واقعے پر ملتان پولیس کے سربراہ نے منگل کو اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرادی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ فریقین کی رضامندی سے ہوا تھا اور تمام 29 نامزد ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

گزشتہ ماہ ملتان کے قریب واقع قصبے مظفرآباد کے گاؤں راجاپور میں ایک لڑکے نے ایک 12 سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس کے بدلے کے طور پر لڑکے کی بہن کے ساتھ متاثرہ لڑکی کے بھائی نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی تھی۔

پولیس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلے واقعے کے بعد جب کم سن لڑکی کے والدین اور رشتے دار لڑکے کے گھر پہنچے تو وہاں پنچایت بلائی گئی جس نے بدلے میں لڑکے کی بہن کے ساتھ جنسی زیادتی کا فیصلہ سنایا۔

رہورٹ کے مطابق فریقین نے اس فیصلے کو تسلیم کیا اور کم سن بچی کے بھائی نے ملزم لڑکے کی 17 سالہ بہن کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

بعد ازاں کم سن بچی کے والدین نے لڑکے کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کرائی جسے گرفتار کر لیا گیا جس پر لڑکے کے والدین نے بھی مخالف پارٹی پر پرچہ درج کروا دیا اور یوں یہ معاملہ منظر عام پر آیا۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں پولیس نے بتایا ہے کہ غیر قانونی پنچایت کے تمام شرکا کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ شواہد جمع کرنے کے بعد ایک ہفتے کے اندر چالان عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

دونوں فریقین بھلڑ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد گزشتہ ہفتے ہی چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو واقعے کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے بھی واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی تھی جب کہ مظفرآباد پولیس اسٹیشن کے تمام عملے کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG