رسائی کے لنکس

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے منگل کو اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا، جس میں شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ سزائے موت کو ختم کیا جائ

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ایک غیر جانبدار تنظیم ’ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ نے 10 اکتوبر کو سزائے موت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ ملک میں موت کی سزا ختم کی جائے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے منگل کو اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا، جس میں شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ سزائے موت کو ختم کیا جائے۔

مظاہرے میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سزائے موت کے خاتمے کے لیے ملک میں ہر سطح پر بحث ہونی چاہیئے۔

ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین، ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ یہ تاثر درست نہیں کہ موت کی سزا دینے سے جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ایچ آر سی پی ہمیشہ سے سزائے موت کے خلاف ہے۔۔۔۔ یہ سزا جرائم کے خلاف مزاحمت نہیں ہے۔۔۔ اس بات کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں کہ سزائے موت کی وجہ سے جرائم کی شرح کم نہیں ہوئی ہے‘‘۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی رانا افضل کہتے ہیں کہ سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد ملک میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے۔

بقول اُن کے، ’’پاکستان کے اندر انتہا پسندی اور دہشت گردی جو تھی اس کے خلاف ہم ایک بہت بڑی جنگ میں تھے اور یہ وہ لوگ تھے جو لوگوں کو بلا جواز قتل کرتے تھے تو ان کی سزائے موت جو ہے وہ لازم ہے۔‘‘

دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پاکستان میں سزائے موت پر چھ سال سے عائد پابندی کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، جب کہ ملک میں دو سال کے لیے فوجی عدالتیں بھی قائم کی گئی جن میں بعدازاں مزید دو سال کے لیے توسیع کر دی گئی۔

فوجی عدالتوں سے درجنوں مشتبہ دہشت گردوں کو سزائے موت سنائی جا چکی ہیں اور اُن میں سے بہت سی سزاؤں پر عمل درآمد بھی ہو چکا ہے۔

حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے، اُن کے بقول، سخت سزائیں ضروری ہیں۔

دسمبر 2014 کے بعد پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کے بعد ابتدا میں صرف دہشت گردی کے مقدمات میں سزا پانے والے مجرموں کی سزاؤں پر عملدرآمد کیا گیا مگر بعد میں تمام مقدمات میں سزائے موت پانے والوں کی سزاؤں پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔

انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد پر تشویش کا اظہار کیے جانے کے باوجود ملک میں پھانسیاں دیے جانے کا عمل جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG