رسائی کے لنکس

logo-print

حقوق نسواں سے متعلق قوانین پر موثر عمل درآمد کا مطالبہ


فائل فوٹو

پاکستان میں 12 فروری خواتین کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس ہی مناسبت سے سماجی اداروں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے اتوار کو مختلف مذاکروں کا اہتمام کیا۔

ان مذاکروں میں خواتین کو اقتصادی، سیاسی اور دیگر اعتبار سے بااختیار بنانے اور حقوق نسواں کے تحفظ پر زور دیا گیا۔

پاکستان میں حقوق انسانی کی علم بردار تنظیم ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ بھی خواتین سے متعلق مسائل کے حل کے حوالے سے مسلسل سرگرم ہے۔

صوبہ پنجاب میں اس تنظیم کی نائب سربراہ سلیمہ ہاشمی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حالیہ برسوں میں ملک میں خواتین کے حقوق سے متعلق قانون سازی کو خوش آئند قرار دیا۔ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ صورت حال اُس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتی جب تک ان قوانین پر عمل درآمد کو یقینی نا بنایا جائے۔

’’اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ کا کردار کیا ہوگا، اور کیا خواتین، معاشرہ اور سماجی حالات ان کو مجبور کر سکیں گے کہ قوانین پر عمل درآمد کروایا جائے۔‘‘

خواتین کے حقوق کی علم بردار ایک اور غیر سرکاری تنظیم ’عورت فاؤنڈیشن‘ کے زیر اہتمام سیمینار میں مقررین کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں عورتوں کو معاشرے کے ظلم و ستم کا زیادہ سامنا رہتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ چونکہ دیہات میں شرح خواندگی بہت کم ہے لہذا وہاں خواتین کی ترقی کو یقینی بنانا حکومت کے لیے ایک چیلج سے کم نہیں۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ اُن کی حکومت قومی دھارے میں عورت کے کردار کو مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

اُنھوں نے اپنے تحریری پیغام میں کہا کہ موجودہ پارلیمان نے خواتین کو دوران کار اور جنسی طور پر حراساں کرنے اور تیزاب کے حملوں کے خلاف قوانین متعارف کرانے سمیت کئی دیگر اقدامت کیے ہیں جن میں خواتین کے قومی کمیشن کا قیام بھی شامل ہے۔

’’آئیں ہم عہد کریں کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے کیوں کہ ان کی شمولیت کے بغیر عوام کو مستحکم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔‘‘

پاکستان میں قانونِ شہادت میں کی گئی ترمیم کے خلاف خواتین نے 12 فروری، 1983ء کو جس جد و جہد کا آغاز کیا تھا اُس کی یاد میں یہ دن ملک میں خواتین کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG