رسائی کے لنکس

نہال ہاشمی کا 'دھمکی آمیز' بیان، حزب مخالف کی حکومت پر کڑی تنقید


وزیراعظم اور ان کے بھائی شہباز شریف (فائل فوٹو)

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے مبینہ طور پر حکمران جماعت کی ایما پر دیا گیا بیان قرار دے دیا۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیٹر کی طرف سے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کی جانچ پڑتال کرنے والوں کے خلاف دھمکی آمیز بیان پر گو کہ حکومت کی طرف سے مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے کا تو کہا گیا ہے لیکن اس بیان کی بازگشت بدھ کو دن بھر پاکستان کے سیاسی منظر نامے اور ذرائع ابلاغ میں سنائی دیتی رہی۔

سینیٹر نہال ہاشمی نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ جو لوگ شریف خاندان کا احتساب کر رہے ہیں انھیں نہیں چھوڑا جائے گا اور ساتھ ہی ان کے لیے دائرہ حیات تنگ کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔

"جنہوں نے حساب لیا اور جو لے رہے ہیں کان کھول کر سن لو ہم نے چھوڑنا نہیں ہے تم کو، آج حاضر سروس ہو کل ریٹائر ہو جاؤ گے تمہارے خاندان کے لیے پاکستان میں زمین تنگ کر دیں گے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "تم پاکستان کے باضمیر باکردار نوازشریف کا زندہ رہنا تنگ کر رہے ہو پاکستانی قوم تمہیں تنگ کرے گی۔"

پاناما پیپرز میں سامنے والے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے غیر ملکی اثاثوں کے معاملے پر کئی ماہ تک عدالت عظمیٰ کی کارروائی کے بعد ان دنوں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس کی تفتیش کر رہی ہے جس میں وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز اور ایک قریبی عزیز سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

حسین نواز اس ٹیم کے دو ارکان کی غیر جانبداری پر اپنے تحفظات سپریم کورٹ کے سامنے پیش کر چکے ہیں جنہیں عدالت عظمیٰ مسترد کر چکی ہے۔ ایسی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں کہ دوران تفتیش ان شخصیات سے ٹیم کے ارکان کا رویہ مبینہ طور پر درشت رہا ہے۔

نہال ہاشمی کے بیان نے حزب مخالف کو حکومت پر تنقید کا تازہ ترین موقع بھی فراہم کر دیا اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے مبینہ طور پر حکمران جماعت کی ایما پر دیا گیا بیان قرار دے دیا۔

"یہ نہال ہاشمی کو ہم نہیں سمجھتے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ نہال ہاشمی (نے خود یہ بیان دیا) وہ تو بہت چھوٹا سا نہ نظر آنے والا تنکا ہے۔ یہ مسلم لیگ ن ہے ان کے بل بوتے پر ان کی طاقت پر ہوا۔"

وزیراعظم کے سب سے بڑے ناقد اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے نہال ہاشمی کے بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کی ان کے بقول تاریخ ہی ایسی ہے کہ وہ اداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے۔

"ان کی تاریخ ہے یا لوگوں کو خریدتے ہیں یا ڈراتے ہیں، میرے خیال میں سپریم کورٹ کو سخت ایکشن لینا چاہیے۔ اس لیے لینا چاہیے کہ اگر یہ اس طرح جے آئی ٹی کے لوگوں کو ڈرائیں گے اور پریشر ڈالیں گے سپریم کورٹ پر تو اس طرح ملک میں جنگل کا قانون بن جائے گا۔"

سینیئر تجزیہ کار وجاہت مسعود کے نزدیک پاناما پیپرز اور عمران خان کی بنی گالہ کی جائیداد سے متعلق فریقین کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیاں اور یہ تازہ بیان ایک سیاسی معاملہ ہے جس کو مکمل طور پر قانونی طریقوں سے دیکھنا مشکل ہے۔

"حکومتوں میں ہوتا یہی ہے کہ پیغام پہنچانا ہوتا ٹوئٹ ہو یا اس طرح کے بیانات ہوں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں اقتدار کی کشمکش بڑی شدت اختیار کر چکی ہے اور جب معاملہ ہی سیاسی ہو اس کو خالص قانونی طریقوں سے دیکھنا مشکل ہو جا تا ہے۔"

وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نہال ہاشمی کے "ذاتی حیثیت" میں دیے گئے بیان کا حکمران جماعت یا شریف خاندان کے موقف اور نظریے سے کوئی تعلق نہیں۔

عدالت عظمیٰ نے نہال ہاشمی کے متنازع بیان کا نوٹس لے لیا ہے اور بدھ کی شام سپریم کورٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس معاملے کو جمعرات کو پاناما پیپرز کی تحقیقات کی نگرانی کرنے والے بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے اور اس ضمن میں اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG