رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے پر پاکستان اور روس کی تشویش


پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ہمراہ (فائل فوٹو)

اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی ایک عالمی چیلنج ہے جسے کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برداری میں مؤثر تعاون کی ضرورت ہے۔

پاکستان اور روس کے انسدادِ دہشت کے مشترکہ گروپ کا ساتواں اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں ہوا جس میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کے درمیان مذاکرات کے بعد بدھ کی شب وزارتِ خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور روس کے حکام کا کہنا تھا کہ شام اور عراق میں داعش کے خلاف نمایاں کامیابی ملی ہے لیکن جن ممالک سے دہشت گرد وہاں لڑنے گئے تھے اُن کی اپنے ملکوں یا کسی اور ملک بشمول اس خطے میں واپسی سے عالمی امن کے لیے خطرہ بڑھ گیا ہے۔

پاکستانی اور روسی حکام نے کہا کہ خطے کے ممالک کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے تعاون کریں۔

مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزارتِ خارجہ میں انسداد دہشت گردی کے ڈائریکٹر جنرل احمد فاروق جب کہ مہمان وفد کی سربراہی روسی وزارتِ خارجہ میں نئے چیلنجز کے شعبے کے ڈائریکٹر عیلے روگئیوچ نے کی۔

دونوں ممالک کے وفود میں انسدادِ دہشت گردی کے محکموں کے افسران بھی شامل تھے۔

مذاکرات میں خطے اور عالمی سطح کے علاوہ پاکستان اور روس میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں اور دوطرفہ تعاون پر بات چیت کی گئی۔

بیان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی ایک عالمی چیلنج ہے جسے کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برداری میں مؤثر تعاون کی ضرورت ہے۔

پاکستانی حکام نے اپنے روسی ہم منصبوں کو دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا اور اُنھیں بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی کے قومی لائحۂ عمل پر عمل درآمد سے پاکستان میں سلامتی کی صورتِ حال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان انسدادِ دہشت گردی گروپ کا آئندہ اجلاس 2019ء میں ماسکو میں ہو گا۔

پاکستان اور روس کے درمیان رابطوں میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ محمد آصف نے رواں ماہ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ داعش مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ عراق اور شام میں شکست کے بعد اُس نے اپنا پتا تبدیل کر لیا ہے اور اب وہ افغانستان میں قدم جما رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرنے والے ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے بھی کہا تھا کہ داعش کو شام اور عراق میں زمینی شکست تو ہوئی لیکن اُن کے بقول اس دہشت گرد تنظیم کے نظریے کو شکست نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ افغانستان میں موجود داعش کے شدت پسندوں کے خلاف امریکی اور افغان فورسز بھی کارروائی کرتی رہی ہیں اور اب تک اس تنظیم کے کئی کمانڈروں کو نشانہ بھی بنایا جا چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG