رسائی کے لنکس

وسطی ایشیائی ملک، ازبکستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مزاکرات کو آگےبڑھانے کے عمل میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ ازبکستان نے اس سلسلے میں اس ماہ کے آخر میں دارالحکومت تاشقند میں سفارتی اہلکاروں کی ایک بین اقوامی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

ازبکستان افغانستان کے شمال مغرب میں واقع ہے اور اس کی سرحدیں افغانستان کے علاوہ قزاقستان، ترکمانستان، تاجکستان اور کرغیزستان سے ملتی ہیں۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر محقق مائیکل اوہین لین کا کہنا ہے کہ ازبکستان افغانستان کا ایک اہم ہمسایہ ملک ہے اور افغانستان میں فعال دہشت گردوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کے ازبکستان میں دہشت گرد تحریکوں سے رابطے ہیں۔ لہذا، ایک اعتبار سے دونوں ملکوں کے کچھ مشترکہ دشمن ہیں۔ لیکن، یہ کہنا مشکل ہے کہ ازبکستان کی یہ پوزیشن افغانستان میں بحالی امن کےسلسلے میں کارآمد ثابت ہوگی یا نہیں۔

امریکہ کے ایک اور تھنک ٹینک ’کیٹو اسٹی انسٹی ٹیوٹ‘ سے وابستہ ریسرچ فیلو سحر خان کا کہنا ہے کہ ازبکستان وسطی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے۔ ازبکستان اور افغانستان میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ دونوں خشکی میں گھرے ہوئے ملک ہیں اور ان کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کے درمیان ثقافتی رشتے بھی گہرے ہیں۔ یوں افغانستان کے حوالے سے ازبکستان کی صورت حال منفرد ہے اور اگر ازبکستان بھی قیام امن کی کوششوں میں شریک ہوتا ہے تو افغانستان میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری مقابلے بازی کی کیفیت بھی کم ہو سکتی ہے۔

اذبکستان کے صدر شوکت مرزیوییو۔ فائل فوٹو
اذبکستان کے صدر شوکت مرزیوییو۔ فائل فوٹو

سحر خان کہتی ہیں کہ ازبکستان روس اور چین کی طرح کوئی بڑی علاقائی طاقت نہیں ہے۔ لیکن ازبکستان پر پاکستان کی طرح دہشت گردوں کی اعانت کے الزامات بھی نہیں ہیں۔ یوں اس بات کا امکان موجود ہے کہ ازبکستان غیر جانبدار رہتے ہوئے امن مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے میں کوئی کردار ادا کر پائے۔

سحر خان نے کہا کہ جب بھی پاکستان، بھارت، امریکہ یا روس افغانستان میں امن مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو پہلا سوال یہ اُٹھتا ہے کہ ان ممالک کی ان مذاکرات میں دلچسپی کی وجہ کیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان ممالک کا حقیقی مقصد قیام امن کے بجائے اپنے مخصوص مفادات کا حصول ہے۔ ان حالات میں ازبکستان دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ غیر جانبدار ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ طالبان نے اب تک امن مذاکرات کو امریکہ کے حوالے سے دیکھا ہے۔ تاہم، امریکہ کے ساتھ طالبان کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور امریکی کوششوں سے اب تک ہونے والے امن مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ازبکستان کے ساتھ طالبان کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یوں، ازبکستان کا کردار افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے ایک نیا راستہ کھول سکتا ہے۔

ازبکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس اُمید کا اظہار کیا گیا ہے کہ 26 اور 27 مارچ کو تاشقند میں ہونے والی امن کانفرنس کے نتیجے میں افغانستان میں قومی مصالحت کی ایسی فضا قائم ہو جائے گی جس کی سربراہی خود افغان حکومت کرے گی۔

اس کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی خصوصی خطاب کریں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل اینٹونیو گوٹیرس اور افغانستان کیلئے اُن کے خصوصی نمائیندے تادامچی یاماموٹو کو بھی اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

ازبکستان کے صدر شفقت مرزیوییو کے دفتر کی طرف سے پچھلے ہفتے کہا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کانفرنس کی حمایت کرتے ہوئے ایک پیغام میں کہا تھا کہ اُن کی انتظامیہ کانفرنس کیلئے امریکی وفد تشکیل دے رہی ہے۔

ازبکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ازبکستان کی حکومت تاشقند کانفرنس پر ہی اکتفا نہیں کرے گی، بلکہ افغانستان میں پر امن سیاسی عمل کو فروغ دینے کیلئے دو طرفہ اور کثیر جہتی بنیادوں پر فعال کردار ادا کرتی رہے گی۔

اُدھر افغان صدر نے بدھ کے روز طالبان کو امن مذاکرات میں شامل کرنے کی پیشکش کا اعادہ کیا ہے۔ طالبان کی طرف سے ابھی تک اس پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیلوال آرمی چیف جنرل باجوہ سے ملاقات کر رہے ہیں
پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیلوال آرمی چیف جنرل باجوہ سے ملاقات کر رہے ہیں

​پاکستان نے صدر اشرف غنی کی اس پیشکش کی بھرپور حمایت کی ہے۔ اسلام آباد میں موجود افغان سفیر عمر زخیل وال نے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے شکوک و شبہات دور کرنے سے متعلق بات کی ہے تاکہ افغان امن مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اُدھر افغانستان نے قطر کی حکومت سے کہا ہے کہ دوہا میں موجود طالبان کا دفتر بند کر دیا جائے کیونکہ گزشتہ سات برس کے دوران اس دفتر کے ذریعے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے میں کوئی مدد نہیں ملی ہے۔

ان حالات میں ازبکستان کی طرف سے افغان امن عمل میں کلیدی کردار ادا کرنے کی خواہش کس حد تک فائدہ مند ہو سکتی ہے، یہ اس ماہ کے آخر میں منعقد ہونے والی تاشقند کانفرنس کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG