رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان روس مشترکہ فوجی مشقیں اتوار سے شروع ہوں گی


فائل فوٹو

روس کی وزارتِ دفاع کے مطابق 21 اکتوبر سے 4 نومبر تک جاری رہنے والی "فرینڈ شپ 2018" نام یمشقو ں میں دونوں ملکوں کے 200 فوجی اہلکار حصہ لیں گے۔

پاکستان اور روس کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں آئندہ اتوار سے پاکستان میں شروع ہوں گی۔

روس کی وزارتِ دفاع کی طرف سے منگل کو جاری ایک بیان کے مطابق 21 اکتوبر سے 4 نومبر تک جاری رہنے والی "فرینڈ شپ 2018" نامی مشقو ں میں دونوں ملکوں کے 200 فوجی اہلکار حصہ لیں گے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان مشقوں میں روس کی فوج کے 70 اہلکار شریک ہوں گے جو صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے چراٹ میں واقع پاکستان کی اسپیشل فورسز کے مرکز اور پنجاب کے شہر کھاریاں کے قریب واقع پبی میں انسدادِ دہشت گردی کے قومی مرکز میں ہونے والی ان مشقوں میں حصہ لیں گے۔

روس کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ان تربیتی مشقوں میں حصہ لینے والے دونوں ملکوں کے فوجی دستے پہاڑی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی اور مسلح گروہوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیواں سے متعلق اپنے اپنے تجربات کا ایک دوسرے سے تبادلہ کریں گے۔

بیان میں مزید کیا گیا ہے کہ ان مشترکہ مشقوں کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون کو فروغ دے کر اسے مزید مضبوط بنانا ہے۔

پاکستان اور روس کے درمیان اس سے قبل 2016ء اور 2017ء میں بھی مشترکہ فوجی مشقیں ہو چکی ہیں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ اتوار کو شروع ہونے مشترکہ مشقیں بھی انہیں کا تسلسل ہیں۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار امجد شعیب نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس خطے میں شدت پسند تنظیم داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے نمٹنے کے لیے خطے کے ملکوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ حکمتِ عملی وضع کرنے کے کوشش کر رہا ہے اور یہ مشقیں اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔

حالیہ چند برسوں کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی شعبوں میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال اگست میں پاکستان اور روس کی مشترکہ عسکری مشاورتی کمیٹی کے اسلام آباد میں ہونے والے افتتاحی اجلاس کے موقع پر دونوں ملکوں نے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت پاکستانی فوج کے اہلکار اب روس کے عسکری اداروں میں تربیت حاصل کر سکیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG