رسائی کے لنکس

کیا روس پاکستان کو جدید ہتھیار دے گا؟


روس کا جدید فائٹرجیٹ طیارہ مگ 31، فائل فوٹو

دونوں  ملک ایک دوسرے کو انگیج کر رہے ہیں تو یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ دونوں ملکوں کے وزراء  دفاع ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے کرچکے ہیں۔  مشترکہ فوجی مشقیں ہو چکی ہیں۔ روس نے پاکستان کو ایم آئی 35  ہیلی کاپٹر بیچے ہیں جو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔

جریدے اکنامک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون کہا گیا ہے کہ روس پاکستان کو فائیٹرز جیٹ، ایر ڈیفنس سسٹم اور ٹینک فروخت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

اس بارے میں روس کی جانب سرکاری طور پر ابھی تک کچھ نہیں کہا گیا ہے لیکن وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے پروگرام جہاں رنگ میں میزبان قمر عباس جعفری نے دو ممتاز تجزیہ کاروں ریٹائرڈ بریگیڈیر عمران ملک اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی ڈاکٹر عرشی سلیم سے اس حوالے سے بات کی۔

عمران ملک نے کہا کہ روس اور پاکستان کے تعلقات کی تاریخ کچھ بہت اچھی نہیں ہے اور جب اس پس منظر میں آج دونوں ملکوں کے تعلقات کو دیکھا جائے تو نظر آئے گا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کو انگیج کر رہے ہیں تو یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ دونوں ملکوں کے وزراء دفاع ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے کرچکے ہیں۔ مشترکہ فوجی مشقیں ہو چکی ہیں۔ روس نے پاکستان کو ایم آئی 35 ہیلی کاپٹر بیچے ہیں جو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ روس اور پاکستان آگے چل کر کیا کرتے ہیں یہ بعد کی بات ہے جبکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ روس اور بھارت کا ایک پرانا تعلق ہے اور روس بھارت کو ہتھیاروں کے جدید نظام فراہم کر رہا ہے۔ ہندوستان روس کے ساتھ مل کر جدید لڑاکا طیاروں کی پلاننگ کی جارہی ہے تو یہ ایک منطقی بات ہے کہ جب یہ چیزیں ہندوستان کو دی جارہی ہیں تو پاکستان کو کیسے دی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں یہ توازن کا ایک پیچیدہ کھیل ہے۔ اس خطے میں امریکہ اور ہندوستان کا ایک گروپ ہے۔ پاکستان اور چین کا ایک فولڈ ہے اور خطے کی دو دوسری بڑی قوتیں روس اور ایران دونوں پاکستان اور انڈیا کو انگیج کررہی ہیں۔ اور اس طرح ایک دلچسپ جیو اسٹریٹیجک اور جیو پولیٹیکل صورت حال بنتی جارہی ہے۔

ڈاکٹر عرشی سلیم کا کہنا تھا عالمی میڈیا میں بہت ساری خبریں آتی رہتی ہیں۔ یہ بھارت کے لکھنے والوں کا لکھا ہوا مضمون ہے جن سے ایک خاص نوعیت کا پیغام ملتا ہے۔

انہوں کہا کہ یہ مضمون نا پختہ لگتا ہے کیونکہ ساری دنیا کے ملکوں کو دیکھ لیں ان کے ایکشن اور ری ایکشن کو دیکھیں تو کوئی بھی ملک ایسا نہیں لگے گا کہ کوئی کسی کے ساتھ یا دوسرے کے ساتھ اپنے معاہدوں پر پوری طرح عمل کرے کیونکہ قومیں اپنے مفادات کے لحاظ سے چیزیں بدلتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح جب ہمیں روس کا پاکستان کی جانب جھکاؤ نظر آتا ہے تو اس کا یقینی طور پر یہ مطلب نہیں ہے کہ دوستی کی سطح اتنی بلند ہو گئی ہے کہ بہت زیادہ اعتماد کی فضا بن گئی ہے کہ وہ پاکستان کو سب کچھ دینا شروع کردے۔ لیکن خطے میں صورت حال بدل رہی ہے، روس کا جھکاؤ بڑھ رہا ہے۔ لیکن ابھی ان تعلقات کو آگے بڑھنے میں کچھ وقت لگے گا۔

مزید تفصیلات کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

پاکستان اور ہائی ٹیک روسی ہتھیاروں کی خرید
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:37 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG