رسائی کے لنکس

logo-print

ساہیوال میں مارے گئے افراد کی نماز جنازہ کے بعد تدفین


ساہیوال کے واقعے میں مارے گئے افراد کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد تدفین کر دی گئی ہے۔

اس واقعہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق سی ٹی ڈی کے مبینہ مقابلے میں تیرہ سالہ بچی اریبہ کو چھ گولیاں، والدہ نبیلہ بیگم کو چار گولیاں، والد خلیل کو تیرہ گولیاں جبکہ کار ڈرائيور ذیشان کو دس گولیاں ماری گئیں۔

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے ساہیوال واقعہ سے متعلق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی کے مطابق پہلی گولی ذیشان نے چلائی تھی، جبکہ اِس کے کچھ ساتھی گزشتہ روز گوجرانوالہ میں مارے گئے تھے۔

راجہ بشارت نے کہا کہ وزیر اعلٰی پنجاب نے لواحقین کے لیے دو کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

“ذیشان کے داعش کے ساتھ تعلقات تھے۔ اِس کی گاڑی بھی دہشت گردوں کے زیرِ استعمال رہی ہے جبکہ ذیشان کے گھر دہشت گرد بارودی مواد کے ساتھ بھی موجود تھے”۔

مشکوک سی ٹی ڈی مقابلے میں مارے جانے والے خلیل کے بھائی جلیل احمد کی مدعیت میں ساہیوال واقعے کا مقدمہ تھانہ یوسف والا میں درج کر لیا گیا جس میں سی ٹی ڈی کے سولہ اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں قتل کی دفعہ تین سو دو اور دہشت گردی کی دفعات سیون اے ٹی اے بھی شامل کی گئی ہیں۔

پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کیے جانے کے بعد جی ٹی روڈ پر لاشیں رکھ کر احتجاج کرنے والے مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

مقتول خلیل کے بھائی جلیل احمد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ

وزیراعلیٰ پنجاب نے روایتی طریقے سے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔ خلیل احمد نے کہا کہ پولیس نے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو دہشت گرد بنا کر مار ڈالا ہے۔ وہ صرف انصاف چاہتے ہیں۔

“ہمیں صرف انصاف چاہیئے۔ جنہوں نے میرے بھائی کو مارا ان کے خلاف مقدمہ درج ہو اور انہیں سامنے لایا جائے۔ میرے بھائی کو مارنے والے دونقاب پوش بھی تھے بتایا جائے کہ وہ کون ہیں۔

ہمیں بتایا جائے کہ میرے بھائی اور بچوں کو کیوں مارا؟ وہ تو شادی پر جا رہے تھے۔ اگر چھوٹے چھوٹے بچے دہشت گرد ہو سکتے ہیں تو پورا پاکستان دہشت گرد ہے۔ جنہوں نے ہمارے بچوں کو مارا کیا اُن کے بچے نہیں تھے؟ اُنہیں میرے بھتیجوں پر ذرا بھی رحم نہیں آیا”۔

ساہیوال واقعہ پر وزیراعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار کی سربراہی میں اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا جس میں عثمان بزدار کو واقعہ کی ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی۔ عثمان بزدار نے لواحقین سے ملاقات میں یقین دلایا کہ اِس واقعہ کا جو بھی ذمہ دار ہوا اُس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

“اِس واقعہ کی غیرجانبدار انکوائری ہو گی۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ آپ لوگوں کو انصاف ملے۔ ان بچوں کی کفالت حکومت کرے گی۔ ہم آپ کی ہر طرح سے مدد کریں گے”۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ساہیوال میں ہفتہ کی دوپہر کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے مبینہ مقابلے میں دہشت گرد ذیشان کو ہلاک کرنے کادعویٰ کیا تھا جب کہ کارروائی میں دو خواتین اور ایک خلیل نامی شخص بھی مارا گیا تھا۔ واقعے میں تین بچے بھی زخمی ہوئے۔

میڈیا میں خبریں آنے اور وزیراعظم کا نوٹس لیے جانے کے بعد سی ٹی ڈی پنجاب کے ترجمان نے اپنی نئی وضاحت میں کہا ہے کہ گزشتہ روز سیف سٹی کیمرے سے ایک مشتبہ کار کی نشاندہی ہوئی جس میں اگلی سیٹ پر دو مرد موجود تھے اور وہ لاہور سے ساہیوال جا رہے تھے۔ ترجمان کے مطابق گاڑی کے شیشے کالے تھے جس کے باعث پچھلی سیٹ پر بیٹھی خاتون اور بچے نظر نہیں آئے اور وہ بھی گولیوں کا نشانہ بنے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گرد ذیشان کے پاس دھماکہ خیز مواد تھا جبکہ خلیل کے خاندان کو ذیشان سے متعلق معلوم نہیں تھا کہ وہ دہشت گرد بن چکا ہے۔

مقامی میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق عینی شاہدین کہتے ہیں کہ انہوں نے کار سواروں میں سے کسی کو بھی گولیاں چلاتے یا مزاحمت کرتے نہیں دیکھا جبکہ مبینہ دہشت گردوں کی گاڑی سے اسلحہ نہیں بلکہ کپڑوں کے بیگ ملے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG