رسائی کے لنکس

logo-print

پاک افغان تعلقات میں بہتری کے لیے چین اہم کردار ادا کر سکتا ہے: خواجہ آصف


سرکاری طور پر جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے چین کی کوششوں سے خطے میں امن و ترقی آئے گی۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بیجنگ، اسلام اور کابل کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق وزیرِ خارجہ نے یہ بات ایک نجی ٹیلی ویژن سے انٹرویو میں کہی۔

جب کہ سرکاری طور پر جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے چین کی کوششوں سے خطے میں امن و ترقی آئے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ بیجنگ میں پاکستان، افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے سہ فریقی اجلاس کا انعقاد ایک خوش آئند اقدام تھا جس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔

رواں ہفتے کے اوائل میں چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے پہلے سہ فریقی اجلاس کی میزبانی کی تھی جس میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف اور ان کے افغان ہم منصب صلاح الدین ربانی شریک ہوئے تھے۔

اس سہ فریقی اجلاس میں باہمی معاشی تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں دیرپا قیامِ امن کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی بات چیت کی گئی تھی اور مشترکہ علامیے میں تینوں فریقوں نے افغان طالبان پر زور دیا تھا کہ وہ امن مصالحت کے عمل میں شامل ہوں۔

سہ فریقی اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں کرنے کے علاوہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا تھا کہ تینوں ممالک اپنی سرزمین نہ تو دہشت گردی کے لیے کسی دوسرے خلاف ملک خلاف استعمال ہونے دیں اور نہ ہی اپنے ہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی اجازت دیں گے۔

بیجنگ اپنے ایک طویل المدتی مواصلاتی ڈھانچے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہدری (سی پیک) پر کام جاری رکھے ہوئے ہے جس پر وہ پاکستان میں لگ بھگ 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ’سی پیک‘ اور چین کی طرف سے معاشی ترقی کے دیگر منصوبوں کی تکمیل اور اُن کی کامیابی کے لیے چین یہ سمجھتا ہے کہ خطے میں امن بہت ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کا خواہاں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG