رسائی کے لنکس

عدالت ثبوت یا وضاحت پیش کرنے کا موقعہ فراہم کرسکتی ہے: ایس ایم ظفر


پرائم منسٹر ہاؤس
پرائم منسٹر ہاؤس

جب پچھلی بار وزیر اعظم گیلانی عدالتِ عظمیٰ کے سامنے پیش ہوئے تھے تو اُس وقت اُن سے دریافت کیا جارہا تھا کہ’ آپ کے خلاف مقدمہ کیوں نہ شروع کیا جائے؟‘ اور پیر کو معاملہ یہ ہوگا کہ ’آپ کو سزا کیوں نہ دی جائے؟‘

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ جب پچھلی بار وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی عدالتِ عظمیٰ کے سامنے پیش ہوئے تھے تو اُس وقت اُن سے دریافت کیا جارہا تھا کہ’ آپ کے خلاف مقدمہ کیوں نہ شروع کیا جائے؟‘ اور پیر کو معاملہ یہ ہوگا کہ ’آپ کو سزا کیوں نہ دی جائے؟‘

اُن کے خیال میں’ بہت کچھ‘ وزیر اعظم کے دفاعی وکلا پر منحصر ہے۔

اگر وزیر اعظم عدالت کے سامنے آکر یہ کہتے ہیں کہ اُنھیں کچھ گواہی، ثبوت یا وضاحت دینے ہے جو وہ پہلے پیش نہیں کرپائے، تو ایس ایم ظفر کے بقول، اُنھیں یہ موقع دیا جائے گا۔

اتوار کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ توہینِ عدالت کا مقدمہ اٹارنی جنرل کے ذمے ڈالا جاتا ہےکہ وہ مقدمے کی چارج شیٹ بنائیں اور مقدمے کی پیروی کریں، کیوں کہ وہ’ آفیسر آف دی کورٹ‘ ہوتے ہیں۔ ’اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اِس معاملےمیں سپریم کورٹ یہ کام اُنہی کے ذمے کرتی ہے یا کوئی اور طریقہٴ کار وضع کرتی ہے‘۔

ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ توہینِ عدالت کے مقدمے میں زیادہ طوالت نہیں ہوا کرتی، ورنہ، اُن کے بقول، معاملہ درست ہونے کے بجائے اِس میں مزید خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

وزیر اعظم کے پاس دوسرے آپشن کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ عدالت کے سامنے آکر یہ کہیں کہ اُنھوں نے پہلےکسی غلط فہمی کی بنا پر خط نہیں لکھا تھا ، جب کہ وہ اب ایسا کرنے پر تیار ہیں، اور یہ کہ اب تک جو کارروائی ہوئی ہے جِس میں توہینِ عدالت کا جرم اُن پر عائد کیا گیا ہے وہ اُس کی معافی طلب کرتے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ایس ایم ظفر نے کہا کہ عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے کی صورت میں، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نہ صرف وزیر اعظم نہیں رہیں گے، بلکہ اسمبلی کے رکن بھی نہیں رہیں گے۔

یہ معلوم کرنے پر کہ کیا صدر کو اُنھیں معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے، ایس ایم ظفر نے کہا کہ صدرِ پاکستان اُن کی سزا میں کمی ، تخفیف یا معافی یا جیل سے باہر لاسکتے ہیں، لیکن دی گئی سزا کا جرم ثابت ہی رہتا ہے اور اُس کے مضمرات باقی رہتے ہیں، وہ معاف نہیں ہو سکتے۔

آپشنز کے معاملے پر بات کرتے ہوئے، ممتاز قانون دان، جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد کا کہنا تھا کہ امکان اِس بات کا ہے کہ غالباً عدالت جاکر وزیر اعظم یہ کہیں گے کہ وہ عدالت کے احکامات پر عمل کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ پارٹی کے ڈسپلن کو توڑ نہیں سکتے۔ اُن کے بقول، وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے معاف کردیں، میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں ۔

اُنھوں نے کہا کہ سزا کی صورت میں نہ صرف وہ وزارتِ عظمیٰ اور رکن قومی اسمبلی کے لیے نااہل ہوجائیں گے، بلکہ اگلے پانچ سالوں تک کوئی انتخاب بھی نہیں لڑ سکتے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG