رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاﺅنٹس سے پیسہ واپس لانے اور اس حوالے سے تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔

اس کمیٹی کی سربراہی گورنر سٹیٹ بنک کریں گے، جبکہ ان کے ساتھ سیکرٹری خزانہ اور چئیرمین ایف بی آر بھی شامل ہونگے۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاﺅنٹس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ اس دوران وفاقی حکومت کے سیکرٹری خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ’’بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے بیرون ملک اکاﺅنٹس اور املاک بنا رکھی ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک بتائیں کہ سوئٹزرلینڈ میں موجود اکاﺅنٹس سے پیسہ کیسے واپس پاکستان آسکتا ہے؟ ‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’اتنا سارا پیسہ بیرون ملک چلا گیا، ممکن نہیں کہ ساری رقم کالے دھن کی ہو۔ کچھ ایسے بھی ہوں گے جو قانونی طریقے سے رقم لے گئے ہوں۔ تاہم، اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو غیر قانونی طریقے سے رقم لے کر گئے ہیں۔ کہاجاتا ہے یہ پیسہ واپس آجائے تو ہمارے سارے قرضے اتر جائیں‘‘۔

گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے بتایا کہ ’’بیرون ملک اکاﺅنٹس کے حوالے سے معاہدے ہو رہے ہیں، اور سوئٹزرلینڈ سے بھی دو طرفہ معاہدہ ہو گیا ہے۔ پیسہ واپس لانے کےلئے ہم اپنی بھرپور کوشش کریں گے‘‘۔

جسٹس اعجازالاحسن نے حکم دیا کہ جرمنی و سوئٹرز لینڈ سے ہزاروں لوگوں کے اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات لیں، بھارت نے بھی سوئٹرز لینڈ سے سینکڑوں لوگوں کی معلومات لی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ملائیشیا میں بھی لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ کیا متحدہ عرب امارات میں بھی پاکستانی اپنی جائیداد خرید سکتے ہیں؟‘‘

چیف جسٹس نے گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کی سربراہی میں چیئرمین ’ایف بی آر‘ اور سیکرٹری خزانہ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے حکم دیا کہ مل جل کر طریقہٴ کار بنائیں۔ کمیٹی ایک ہفتے میں گائیڈلائن دے آیا بیرون ملک سے رقم کیسے واپس لانی ہے۔ کمیٹی حکومت کے کسی بھی ادارے سے معلومات لینے کی مجاز ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس کمیٹی کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ غیرقانونی طریقے سے بھیجی گئی رقم واپس لائی جائے۔ پیسہ واپس لانے والوں کو رعایت دینے کے معاملے پر غور کریں گے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’’اس کارروائی سے کوئی افراتفری نہیں مچنی چاہیے۔ جو بھی کام کرنا ہے قانون کے مطابق کریں۔ اگر قوانین میں سقم ہے تو ہمیں نشاندہی کروائیں، یہ بھی بتائیں کونسی رقوم غیر قانونی طریقے سے منتقل ہوئیں۔ پہلا کام ان لوگوں کا پتا چلانا ہے جو ٹیکس دئے بغیر پیسا باہر لے گئے۔ یہ بھی دیکھیں جو پیسا باہر سے پاکستان لائیں ان کو کیا مراعات ملیں گی۔ یہ ٹیکس کی ادائیگی اور عوامی مفاد عامہ کا مسئلہ ہے‘‘۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر قوانین میں سقم ہوئے تو ہم ممکن ہے ریاست کو قانون سازی کا کہیں۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ سے معلومات لینے کے تمام اقدامات مکمل ہیں جبکہ دبئی کو بھی 55 افراد کی فہرست دے دی ہے، پارلیمنٹ نے معاہدے کی توثیق کرنی ہے، معاہدے کی توثیق ہونے پر سوئٹزر لینڈ سے معلومات لے سکتے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے کہا کہ پاناما لیکس میں 444 لوگوں کے نام آئے، 2 لوگوں سے 6.62 ارب روپے وصول بھی کیے جاچکے ہیں، 363 لوگوں کو ایف بی آر نے نوٹسز جاری کیے۔ تاہم، 78 لوگوں کے پتے نہیں مل سکے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا 78 افراد سے متعلق کوئی اشتہار دیا گیا، نوٹسز 2016 میں جاری ہوئے اب تک کیا ہوا، کیا آفشور کمپنی والوں سے وضاحت مانگی ہے؟

اس پر ممبر ایف بی آر نے کہا کہ نادرا کو فہرست دی تھی۔ نادرا 185 لوگوں کی معلومات نہ دے سکا۔ ممبر ایف بی آر نے بتایا کہ 72 لوگوں نے آف شور کمپنیوں سے اپنا تعلق تسلیم کیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ان 72لوگوں سے پوچھیں آف شور کمپنی کس طرح بنائی۔ دیکھ لیتے ہیں کن لوگوں نے بیرون ملک کروڑوں ڈالرز کی جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔ قرعہ اندازی کے ذریعے 10 لوگوں کے نام نکال کر ہمیں دے دیں، کسی کو ٹارگٹ نا کیا جائے‘‘۔

عدالت نے سماعت غیرمعینہ مدت کےلئے ملتوی کر دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG