رسائی کے لنکس

'فیکٹریاں مادر پدر آزاد، کوئی پوچھنے والا نہیں'


کٹاس راج میں ہندوؤں کا مقدس تالاب کچھ ہو چکا ہے

سپريم کورٹ آف پاکستان نے چکوال کے قریب کٹاس راج مندر میں پانی کا تالاب خشک ہونے پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چکوال ميں نئی سيمنٹ فيکٹريز لگانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

بدھ کو سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ "حکومت ہميشہ تاخير سے فيصلہ کيوں کرتی ہے، ہم کسی کو ذمہ دار قرار نہيں دے رہے، ليکن يہ بہت افسوسناک ہے۔"

جسٹس عمر عطا بنديال نے کہا کہ چکوال کے علاقے ميں سياحوں کے ليے بہت کشش ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تزک بابری ميں اس علاقے کو کشمير سے تشبیہ دی گئی ہے، ہجرت کرنے والے پرندے بھی اسی علاقے کا رخ کرتے ہيں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فيکٹريوں کو پيداوار ميں اضافے کی اجازت کس نے دی۔ "ہم ايسا بيان نہيں دينا چاہتے جو ہيڈ لائنز بنے، انڈسٹری لگانا سود مند ليکن ماحول کا بھی خيال رکھنا چاہيے، کاغذات ميں سب اچھا ليکن حقائق مختلف ہوتے ہيں۔"

سيکريٹری معدنيات نے کہا کہ سيمنٹ فيکٹريوں کو نوٹس جاری کر دے گئے ہيں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ليز کی تجديد کے وقت پيداوار سے متعلق کيوں نہيں سوال کيا جاتا، فيکٹرياں مادر پدر آزاد، کوئی پوچھنے والا نہيں۔"

عدالت میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ تالاب کو 20فٹ تک بھر ديا گيا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی مداخلت کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ حکومت اس طرح کے مسائل کے حل کے لیے کیا کررہی ہے۔

عدالت میں موجود مسلم لیگ(ن) کے اقلیتی رکن اسمبلی رمیش کمار نے کہا کہ متروکہ املاک کا چیئرمین اقلیت سے ہونا چاہیے، نواز شریف نے رانا بھگوان داس کی جگہ صدیق الفاروق کو چیئرمین بنا دیا ہے، کٹاس راج مندر میں کوئی مورتی نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ چیئرمین متروکہ املاک صدیق الفاروق کدھر ہیں، "اگر کام نہیں کرسکتے توانھیں نوکری سے کیوں نہ ہٹا دیا جائے، ہم نے حکم دیا تھا کہ وہ خود کٹاس راج مندر جا کردیکھیں لیکن متروکہ وقف املاک کاغلط استعمال ہو رہا ہے، ٹرسٹ جس مقصد کے لیے بنایا گیا وہ پورا نہیں ہورہا، ٹرسٹ کی زمین لمبے عرصے تک لیز پر دی جاتی ہے، لاہورمال روڈ پر ٹرسٹ کی زمین کم کرائے پردی گئی، اتنی مہنگی پراپرٹی کا کرایہ چند ہزار ہوتا ہے۔"

عدالت نے متروکہ وقف املاک کی پراپرٹی کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں اور کہا کہ صدیق الفاروق کی ٹرسٹ کا چیئرمین بننے کی اہلیت کے حوالے سے بھی عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ سیاسی تقرریاں ہو رہی ہیں، کسی معتبر بندے کو ٹرسٹ کا چیئرمین ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ متروکہ وقف املاک نے مندروں کی بحالی پرکتنی رقم خرچ کی ہے اس کا آڈٹ ہوا؟ اس ملک کا بد قسمتی سے بڑا المیہ کرپشن ہے، کرپشن سے مل کرمقابلہ کرنا ہے۔

عدالت نے حکومت پنجاب سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی اور حکم دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب خود ان معاملات کو دیکھیں۔ عدالت نے چکوال کی سیمنٹ فیکٹریوں کونوٹس جاری کردیا اور حکم دیا کہ سیمنٹ فیکٹریاں ماحولیاتی مسائل پر اپنا موقف پیش کریں۔

کٹاس راج مندر کے قریب واقع تالاب ہندوؤں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG