رسائی کے لنکس

logo-print

مفتاح اسماعیل ’ایف اے ٹی ایف‘ میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے


پاکستان کے مختلف اداروں کی ایک ٹیم نے ’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس‘ کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا تھی لیکن عین وقت پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ مفتاح اسماعیل کو بھی پیرس بھیجا جائے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خزانہ اور اقتصادی اُمور مفتاح اسماعیل پیرس پہنچ گئے ہیں جہاں وہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔

پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا چھ روزہ اجلاس اتوار کو شروع ہوا تھا جس میں پاکستان کا نام دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات نہ کرنے والے ملکوں کی ’واچ لسٹ‘ میں شامل کرنے سے متعلق امریکہ اور برطانیہ کی پیش کردہ تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مختلف اداروں کی ایک ٹیم نے ’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس‘ کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا تھی لیکن عین وقت پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ مفتاح اسماعیل کو بھی پیرس بھیجا جائے۔

اقوامِ متحدہ کی طرف سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں بشمول حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت نے حالیہ ہفتوں میں عملی اقدامات کیے ہیں اور اس سلسلے میں صدر ممنون حسین نے ایک ترمیمی آرڈیننس کی بھی منظوری دی۔

لیکن عمومی تاثر ہے کہ یہ اقدامات ’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس‘ کے تناظر ہی میں کیے گئے اور بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تاخیر سے کیے گئے فیصلے زیادہ سود مند نہیں ہوں گے۔

اُدھر وزیرِ داخلہ احسن اقبال 'ایف اے ٹی ایف‘ کے اجلاس کے بارے میں پیر کو قومی اسمبلی میں کہا کہ اجلاس میں پاکستان کے دوست ممالک بھی شریک ہیں جو اُن کے بقول پاکستان کے مؤقف کے حق میں آواز اٹھائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل احسن اقبال نے کہا تھا کہ اگر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے پاکستان کا نام اُن ممالک کی فہرست یا ’واچ لسٹ‘ میں شامل کیا گیا جو دہشت گردوں کے مالی وسائل روکنے میں مبینہ طور پر ناکام ہیں تو اس سے پاکستان کی معیشت متاثر ہو گی جس کا بالآخر اثر اُن کے بقول دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں پر بھی پڑے گا۔

اس سے قبل 2012ء میں بھی پاکستان کو ’واچ لسٹ‘ میں شامل کیا گیا تھا لیکن انسدادِ دہشت گردی کے قومی لائحۂ عمل کے تحت اقوام متحدہ کی طرف سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے خلاف کارروائی کے بعد پاکستان کا نام 2015ء میں اس فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG