رسائی کے لنکس

پاکستانی ٹیم کےتمام کھلاڑی آج عجلت میں نظر آئے ۔ سوائے بابر اعظم کے کوئی بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹک سکا اور تمام بیٹسمین ایک کے بعد ایک آؤٹ ہوتے چلے گئے۔

پاکستان نے ابو ظہبی میں جاری دوسرے ایک روزہ میچ میں سری لنکا کو جیت کے لئے 220 رنز کا ہدف دیا ہے۔پاکستان ٹیم مقررہ 50 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر219 رنز بنا سکی۔ مجموعی اسکور میں سب سے زیادہ 101 رنز بابر اعظم نے بنائے جبکہ شاداب خان دوسرے نمبر پر رہے۔ انہوں نے 52 رنز بنائے۔

پاکستانی ٹیم کےبیشتر کھلاڑی آج عجلت میں نظر آئے ۔ سوائے بابر اعظم اور شاداب خان کے کوئی بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹک سکے اور ایک کے بعد ایک آؤٹ ہوتے چلے گئے۔

سری لنکا کو پہلی کامیابی صرف 17 رنز کے مجموعی اسکور پر ملی جب فخر زمان 13بالوں پر 11رنز بناکر آؤٹ ہو گئے۔ اس اسکور میں انہوں نے دو چوکے لگائے ۔ انہیں مینڈس نے گاماگے کی بال پر کیچ آؤٹ کیا۔

دوسری وکٹ کی صورت میں احمد شہزاد آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے 17بالز میں 8رنز بنائے اور کوئی چھکا یا چوکہ نہیں لگایا۔ انہیں لکمل نے کیچ کیا ۔ بالر تھےملندا سری وردنے۔

ان کے بعد حفیظ بھی زیادہ دیر وکٹ پر ٹھہرنے میں ناکام رہے اور نروشن ڈکویلانے گاماگے کے ہاتھوں اپنا شکار بنایا۔

ایک کے بعد ایک وکٹ گرنے کا سلسلہ شعیب ملک کے کریز میں آنے کے بعد کچھ دیر کے لئے تھما۔ انہوں نے ایک اینڈ سنبھالا تو دوسرے اینڈ پر پہلے سے بابر اعظم موجود تھے لیکن شعیب 15بالز پر 11رنز ہی بناسکے اور اس میں بھی صرف چوکا لگانے کا انہیں موقع ملا۔انہیں بھی ڈکویلا نے پریراکے ہاتھوں آؤٹ کرایا۔

شعیب ملک کے آؤٹ ہونے تک پاکستان کا اسکور 71 رنز تھا جس کے بعد سرفراز احمدمیدان میں آئے لیکن وہ باقی کھلاڑیوں کے مقابلے میں اس وقت تک سب سے کم اسکور پر آؤٹ ہوئے ۔ انہوں نے پانچ رنز بنائے تھے کہ پریرا نے انہیں بولڈ کردیا۔ گیند ان کے بیٹ سے لگنے کے باوجود وکٹس سے جا ٹکرائی۔

کپتان کے بعد بالر عماد وسیم پہلے سے کریز پر موجود بابر اعظم کا ساتھ دینے آئے ۔یہاں تک نصف ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی لیکن بابر اعظم کو ابھی تک کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں ملا تھا، وہ چالیس رنز بھی اب تک نہیں بناپائے تھے۔

عماد وسیم 26بالوں میں 10رنز ہی بنا پائے تھے کہ ویندرسےنے انہیں ایل بھی ڈبلیو آؤٹ کردیا۔ ان کی جگہ شاداب خان نے لی ۔ شاداب اور بابر اعظم نے نسبتاً تحمل کا مظاہرہ کیا اور اسکور بنانے پر فوکس کئے رکھا جس کی بدولت بابر اعظم ، دیر سے ہی سہی ،ایک بڑا اسکور کرنے میں کامیاب ہوسکے۔ ان کے رنز بنانے میں تیزی بھی آئی۔

شاداب خان نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا۔ ایک جانب بہتر اسکور کیا تو دوسری جانب بابر اعظم کو ایک کے بعد ایک گرتی وکٹوں سے ہونے والی ٹینشن سے نجات ملی ۔ انہوں نے اپنی سنچری مکمل کی ہی تھی کہ ایک سو ایک رنز پر گاماگے نے انہیں آؤٹ کردیا۔

ان کی جگہ حسن علی کھیلنے آئے جنہوں نے پہلی ہی گیند پر چھکا ماردیا تاہم سات رنز پر وہ پویلین لوٹ گئے ۔ ان کے بعد رومان رئیس آئے جنہوں نے کھاتہ بھی نہیں کھولا تھا کہ دھنن جایا نے انہیں بھی پویلین کی راہ دکھائی ۔ جنید خان بھی کوئی رنز نہیں بناسکے۔ تاہم وہ آخر تک آؤٹ نہیں ہوئے۔

پاکستان کا پہلا وکٹ 17رنز پر، دوسرا 27پر، تیسرا40پر ، چوتھا 71پر ، پانچواں 79 ,چھٹا 101، ساتواں 210 ، آٹھواں218اور نواں وکٹ بھی 218رنز پر گرا۔

سری لنکا کی بالنگ کی بات کریں تو اس کی جانب سے چھ بالرز استعمال کئے گئے جن میں سے لکمل نےایک، گاماگے نے4، جیفری ویندرسےنےایک، پریرا نے 2جبکہ دھنن جایااورسری وردنے، نےکوئی وکٹ نہیں لی۔

اس سے قبل پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وکٹ بیٹنگ کے لئے سازگار نظر آرہی ہے ، اس لئے انہوں نے پہلے کھیلنے کو ترجیح دی۔

پاکستان اور سری لنکا نے اپنی اپنی ٹیموں میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی اور تمام کھلاڑی وہی تھے جنہوں نے شارجہ کا پہلا ون ڈے کھیلا تھا اورجس میں پاکستان کو 82رنز سے کامیابی ملی تھی۔

پاکستان کی جانب سے آج کے میچ میں احمد شہزاد، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، شعیب ملک، سرفراز احمد، عماد وسیم، حسن علی، شاداب خان، رومان رئیس اور جنید خان نے حصہ لیا ۔

ادھر سری لنکا نے پاکستان کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی ٹیم میں نروشن ڈکویلا، کپتان اوپل تھرنگا، دنیش چندیمل، لاہیرو تھریمانے، کوشل مینڈس، ملندا سری وردنے، تھیسارا پریرا، آکیلا دھنن جایا، جیفری ویندرسے، سرنگا لکمل اور لاہیرو گاماگے کو شامل کیا تھا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان مجموعی طور پر پانچ ون ڈے کھیلے جائیں گے ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG