رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی پریس کلب چھاپہ، پولیس کا مؤقف تضادات سے بھرپور


صحافی پریس کلب پر چھاپے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ ’’نصراللہ کا القاعدہ کے دہشتگرد خالد مکاتی سے قریبی تعلق ہے اور یہ اس کی سہولت کاری کے لئے کام کرتے رہے ہیں‘‘

کراچی میں صحافی کے خلاف مبینہ طور پر ممنوعہ مواد رکھنے سے متعلق مقدمے اور اس واقعے سے جڑے معاملات میں کئی تضادات کھل کر سامنے آئے ہیں، جو واقعے کو مزید گھمبیر بنا رہے ہیں۔

سندھ کے محمکے انسداد دہشت گردی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق صحافی نصراللہ خان کی گرفتاری عید میلاد النبی اور کراچی میں اسی ماہ ہونے والی بین الاقوامی دفاعی نمائش کو محفوظ بنانے کی کڑی ہے۔ تاہم، اس کا ایف آئی آر میں کوئی تذکرہ موجود نہیں۔

دوسری جانب، کاؤنٹر ٹررزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پریس ریلیز میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ملزم نصراللہ خان نے القاعدہ کے بدنام دہشت گرد خالد مکاشی کی مالی معاونت کے بعد ڈھائی لاکھ روپے دئیے۔ لیکن، ایف آئی آر میں اس کا بھی کوئی تذکرہ نہیں۔

سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کا ایک اور اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ سی ٹی ڈی نے پریس کلب میں داخلے کی وجہ ممکنہ دہشت گرد کی موجودگی پر اس کا تعاقب قرار دی تھی۔

پریس ریلیز میں اس عمل پر صحافیوں سے "دل آزاری" پر معافی بھی مانگی گئی ہے۔ انسداد دہشت گردی ونگ کے افسران کی یہ منطق ایس ایس پی ضلع جنوبی پیر محمد شاہ سے بالکل مختلف ہے جنہوں نے اس واقعے کو "غلط فہمی" قرار دیا تھا۔

دوسری جانب، کراچی پریس کلب انتظامیہ نے بھی سی ٹی ڈی کے دعوے کی سختی سے تردید کی ہے اور نصراللہ خان کی گرفتاری کو بھی غیرقانونی، غیر آئینی قرار دیا ہے۔

کراچی پریس کلب کی جانب سے انتظامیہ کا یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ اس سے قبل کراچی پولیس اور سی ٹی ڈی سرے سے 8 اکتوبر کو پریس کلب پر چھاپے ہی سے انکار کرتے رہے ہیں۔ اور اسے اعلیٰ پولیس افسر "غلط فہمی" قرار دیتے رہے، جبکہ اب ایک پریس ریلیز جاری کرکے صحافیوں سے اس "غلط فہمی" پر ہونے والی "دل آزاری" پر معافی مانگی جا رہی ہے۔

مگر پریس کلب کے صدر احمد خان ملک کا کہنا ہے 8 اکتوبر کو کراچی پریس کلب پر سیکورٹی اداروں کا چھاپہ ایک مکمل سوچا سمجھا منصوبہ تھا، جو کا مقصد، بقول اُن کے، ’’صحافیوں کو ہراساں کرنا ہے‘‘۔

ان کا کہنا یے کہ کراچی پریس کلب نصراللہ خان کا مکمل دفاع کرے گی۔

صدر پریس کلب نے کہا کہ ’’کسی صحافی کے پاس سے ممنوعہ لٹریچر ملنے کا الزام مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ اگر پولیس کے پاس واقعی ایسے ٹھوس ثبوت ہیں تو عدالت میں پیش کرے، جس بھونڈے طریقے سے نصراللہ خان کو تین روز غیرقانونی حراست میں رکھا گیا، خاندان کو پریشان کیا گیا اور پھر اس سے قبل پریس کلب میں اسلحہ بردار سادہ لباس میں ملبوس اہلکار داخل ہوئے، یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش لگتی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’کراچی پریس کلب آزادی اظہار، انسانی حقوق اور عظیم روایتوں کا امین ہے۔ اگر کسی ممبر سے متعلق شکایت بھی تھی تو کلب عہدیداروں کو تو اعتماد میں لیا جاتا‘‘۔

گزشتہ روز روزنامہ ’نئی بات‘ سے تعلق رکھنے والے صحافی نصراللہ خان کو ممنوعہ لٹریچر رکھنے کے الزام کے تحت دو روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ ’’نصراللہ کا القاعدہ کے دہشتگرد خالد مکاتی سے قریبی تعلق ہے اور یہ اس کی سہولت کاری کے لئے کام کرتے رہے ہیں‘‘۔ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ عدالت نے پولیس کو جلد تفتیش مکمل کرکے چالان جمع کرانے کی ہدایت بھی کر رکھی ہے۔

نصراللہ خان کے وکیل محمد فاروق کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے ظاہر شدہ ممنوعہ مواد 2011 اور 12 کا ہے۔ جس پر گرفتاری اب کی گئی ہے۔ ایک صحافی کے پاس ایسا مواد رکھنے کا کیس عجیب و غریب ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ وہ کسی ریاست مخالف سرگرمیوں میں بھی کبھی ملوث نہیں رہے۔ محمد فاروق کے بقول، ’’کیس مکمل طور پر خود ساختہ ہے ہم عدالت میں اپنے موکل پر لگائے گئے الزامات کا بھرپور دفاع کریں گے‘‘۔

ادھر، محکمہٴ داخلہ سندھ نے آئی جی سندھ کی سفارش پر ملزم سے تحقیق کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ جے آئی ٹی کے سربراہ ایس ایس پی سی ٹی ڈی انوسٹی گیشن ہوں گے۔ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، ایم آئی، سندھ پولیس کی اسپیشل برانچ اور دیگر اداروں کے افسران بھی شامل ہوں گے۔ جے آئی ٹی گرفتار ملزم نصر اللہ چوہدری سے 15 روز میں تفتیش مکمل کرکے رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کرے گی۔

اس گرفتاری سے قبل جمعرات 8 اکتوبر کی رات سندھ پولیس کے کاونٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے پریس کلب کے اندر گھس کر کلب کے کچن، اسپورٹس کمپلیکس اور دیگر جگہوں کی تلاشی لیتے ہوئے کلب کی چھت پر فلم بینی بھی کی تھی۔

واقعے کے خلاف صحافیوں نے احتجاجی مظاہرے اور گورنر سندھ ہاؤس کے باہر دھرنا بھی دیا تھا۔ اس صورتحال میں صحافیوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ صحافیوں کے مطابق، ’’ان واقعات کا واضح مقصد صحافی برادری کو ہراساں کرنا اور انہیں سچ لکھنے، بولنے سے روکنا ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG