رسائی کے لنکس

logo-print

اسلام آباد: سول و ملٹری حکام پر مشتمل خصوصی کشمیر کمیٹی قائم


وزیر اعظم عمران خان کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے۔

پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں پاکستان کی حکمت عملی کے حوالے سے ایک 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

اس کمیٹی میں سول و ملٹری حکام شامل ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی پر پاکستان کی جانب سے مجوزہ رد عمل ترتیب دینے، سیاسی، سفارتی اور قانونی پہلووٴں کا جائزہ لینے اور تجاویز مرتب کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اس کمیٹی کے ممبران میں وزیر خارجہ، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکریٹری خارجہ، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی احمر بلال صوفی شامل ہیں۔ کمیٹی کی تشکیل کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی معاملے سے متعلق کمیٹی تشکیل دی گئی ہو۔ اس سے قبل بھی مختلف معاملات کی تحقیقات کے لیے سول و ملٹری حکام پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے بھی سول و ملٹری حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

دوسری جانب، وزیر اعظم عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بدھ کو طلب کر لیا ہے۔ اس کمیٹی کا حالیہ اجلاس اتوار کو ہوا تھا۔ بدھ کو ہونے والے اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت شرکت کرے گی۔

وزیر اعظم آفس کے مطابق اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر غور کیا جائے گا جبکہ وفاقی کابینہ کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس پہلے منگل کو ہونا تھا۔ تاہم، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے باعث اجلاس بدھ تک ملتوی کیا گیا تھا اور اب بدھ کو قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے باعث کابینہ کا اجلاس جمعے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG