رسائی کے لنکس

logo-print

ایف اے ٹی ایف: 'پاکستان کو بلیک لسٹ کیے جانے کا خطرہ ٹلا نہیں'


ایف اے ٹی ایف اجلاس (فائل)

ماہرین کا کہنا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کو ’بلیک لسٹ‘ کیے جانے کے خدشات اب بھی باقی ہیں۔ نگرانی کا یہ ادارہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کے معاملات پر نظر رکھتا ہے۔

نگرانی پر مامور اس عالمی ادارے کی علاقائی تنظیم ’ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) نے کلیدی معاملات کے حوالے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے، جس سلسلے میں ستمبر کے اوائل میں بینکاک میں تنظیم کا دو روزہ مکمل اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے معاملات زیر غور آئے۔

نام نہاد ’بلیک لسٹ‘ پر ڈالے جانے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جانا ابھی باقی ہے، جس سے قبل اے پی جی کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔ اس سلسلے میں اس ماہ کے اواخر میں پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا مکمل اور پھر ورکنگ گروپ اجلاس ہوں گے۔

حتمی فیصلے سے پہلے، چند ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کے کافی امکانات موجود ہیں، چونکہ، بقول ان کے، ایف اے ٹی ایف کے اہم مطالبات کے سلسلے میں پاکستان نے کوئی خاص پیش رفت نہیں دکھائی۔

واشنگٹن میں قائم ’وڈرو ولسن سینٹر‘ میں ساؤتھ ایشیا پروگرام کے معاون سربراہ، مائیکل کوگلمین نے کہا ہے کہ ’’چونکہ اکتوبر تک کوئی اہم فیصلے نہیں ہوئے، پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ بینکاک میں کیا ہوا۔ لیکن، خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے‘‘۔

کوگلمین نے مزید کہا کہ ’’یہ جاننا ایک مشکل امر ہوگا کہ بینکاک میں کیا ہوا؛ آیا جو کچھ ہوا اس کے نتیجے میں اکتوبر میں پیرس میں ہونے والے اہم اجلاس میں مدد ملے گی یا پھر رکاوٹ درپیش آئے گی‘‘۔
بینکاک میں اے پی جی کے اجلاس میں پاکستان کے 15 رکنی وفد نے، جس کی سربراہی اقتصادی امور ڈویژن کے وزیر محمد حماد اظہر کر رہے تھے، شرکت کی، جس میں پاکستان کی جانب سے حاصل کردہ پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

ایشیا پیسیفک گروپ نے جائزہ رپورٹ کے اخذ کردہ نتائج کا انکشاف نہیں کیا، حالانکہ بھارتی ذرائع ابلاغ نے اس اندیشے کا اظہار کیا تھا کہ جائزہ اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی اچھی نہیں تھی، اور بلیک لسٹ کیے جانے کا خدشہ منڈلا رہا ہے۔

تاہم، پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں، ’’بھارتی پروپیگنڈا‘‘ قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کا جواب دیتے ہوئے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’’ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بلیک لسٹ نہیں کیا! دنیا کو بھارتی پروپیگنڈا اور جھوٹی خبروں کا نوٹس لینا چاہیے‘‘۔

پاکستان کا مؤقف

پاکستان دہشت گرد گروہوں اور ان کے مالی نیٹ ورکس کے انسداد کے سلسلے میں کی جانے والی اپنی کوششوں کا دفاع کرتا ہے، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی ضروریات اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے۔

بینکاک میں اے پی جی کے اجلاس میں شرکت کے بعد، اکنامک افیئرز ڈویژن کے پاکستانی وزیر، حماد اظہر نے بتایا کہ ’’پاکستانی وفد نے ایف اے ٹی ایف ایکشن بلان سے متعلق کی گئی پیش رفت کے بارے میں مؤثر طور پر آگاہ کیا؛ اور اے پی جی جوائنٹ گروپ کو اضافی اطلاعات اور وضاحتیں پیش کی گئیں‘‘۔

حالیہ دنوں کے دوران، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھارت پر نکتہ چینی کی کہ بھارت نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے خلاف کام کیا، اور کہا کہ اپنی سرزمین پر متحرک شدت پسند گروہوں کو مسمار کر دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران، عمران خان نے کہا کہ ’’جونہی انتخابات ختم ہوئے، ہم نے بھارت سے رابطہ کیا۔ کوئی جواب نہیں ملا۔ لیکن، پھر ہمیں معلوم ہوا کہ ہمیں دیوالیہ کرنے کے لیے وہ ایف اے ٹی ایف سے ہمیں بلیک لسٹ کرانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس وقت ہمیں پتا چلا کہ یہ سب کچھ ایک ایجنڈا کے تحت کیا جا رہا ہے‘‘۔

شدت پسند گروہوں اور ان کے مالی نیٹ ورکس کے خلاف لڑائی میں پاکستان کی جانب سے پیش رفت کے دعوؤں کے باوجود، کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بہت کچھ نہیں کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے نمایاں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف قابل ذکر اقدام نہیں کیا گیا، جو بات بین الاقوامی برادری کے لیے کھلی تشویش کا باعث ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایف ایف) کے ایک سابق سینئر ریزیڈنٹ نمائندے، ندیم الحق نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے عائد کردہ دیگر مطالبات پورے کیے ہوں، لیکن ملک کو ابھی بھی ’’نمایاں دہشت گردوں‘‘ سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔

حق نے کہا کہ ’’پاکستان جانے پہچانے دہشت گردوں کو پکڑنے میں ناکام رہا ہے، جن کے لیے دنیا کہہ رہی ہے کہ انہیں پکڑا جائے۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔ باقی شرائط تو کافی حد پوری کی جا چکی ہیں‘‘۔

’کارنیگی انڈوومنٹ فار انٹرنیشنل پیس‘ میں جنوبی ایشیا کے ماہر، جیمز شواملین نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان نے محض چند اقدامات کیے ہیں۔

شواملین نے کہا ہے کہ ’’ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے، ابھی تک، یوں لگتا ہے کہ حکام نے معمولی اقدامات کیے ہیں۔ لیکن، وہ مکمل عمل درآمد سے دور ہیں۔‘‘

شواملین نے الزام لگایا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی شدت پسند گروہوں سے روابط جاری رکھے ہوئے ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’پاکستانی حکام استفسار کرتے ہیں کہ جو دہشت گرد گروہ ملک کے اندر موجود ہیں پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کی حمایت سے چل رہے ہیں۔ ان کے خلاف قدم اٹھانے کے حوالے سے ان کی استعداد محدود ہے، حالانکہ وزیر اعظم عمران خان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان شدت پسند گروپوں کو مسمار کرنے کے لیے مرحلہ وار اقدام لیں گے‘‘۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ پر پاکستان کا نام آنے کے نتیجے میں یہ امر ملک کی غیر مستحکم معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG