رسائی کے لنکس

logo-print

ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عمل کے لیے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا مقصد ایف اے ٹی ایف کے تمام اہداف کی تکمیل یقینی بنانا ہے۔

کمیٹی میں خزانہ، امور خارجہ اور داخلہ کے وفاقی سیکریٹریوں کے علاوہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلقہ تمام اداروں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کے تین اعلیٰ عہدے دار بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیٹی ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے حکومتی کوششوں میں معاونت کرے گی۔

وزیرِ اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی 12 ارکان پر مشتمل ہے جسے یکم دسمبر تک فنانشل ایکشن فورس کے تمام اہداف مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ فنانشل ٹاسک فورس کی علاقائی تنظیم ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کا اجلاس گزشتہ ہفتے آسٹریلیا کے شہر کینبرا میں ہوا تھا جس میں پاکستان سمیت چھ ملکوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا۔ اس اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات اکتوبر 2019 میں شائع کی جائیں گی۔

پاکستان نے ایشیا پیسیفک گروپ کو سہ ماہی میوچول ایولویشن رپورٹ پر جواب جمع کرایا ہے جس میں پاکستان نے اپنی مجموعی ریٹنگ میں بہتری کی سفارش بھی کی ہے۔

سول اور انٹیلی جنس اداروں میں ہم آہنگی

مالیاتی امور پر کام کرنے والے ایک صحافی شہباز رانا کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے قائم کمیٹی کا مقصد اداروں کے درمیان ہم آہنگی میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

شہباز رانا کے بقول ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات اور سرگرمیوں کو فوج کا ہیڈ کوارٹر دیکھ رہا ہے۔

پاکستانی حکام مہلت ملنے کے لیے پُر امید

پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے یا نکالنے کا فیصلہ اکتوبر میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

پاکستانی حکام پرامید ہیں کہ وہ 10 نکاتی ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کے لیے ایف اے ٹی ایف سے اضافی وقت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف کے سربراہ نے رواں سال جون میں وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کے اقدامات درست ہیں لیکن پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات کا ادراک نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے وہ بلیک لسٹ بھی ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان معاشی طور پر مشکل صورتِ حال کا شکار ہے اور اگر ایف اے ٹی ایف اسے بلیک لسٹ میں شامل کرتا ہے تو پاکستان کی حکومت کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جون 2018 میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف اور اس کی علاقائی تنظیم ایشیا پیسیفک گروپ سے اعلیٰ سطح پر وعدہ کیا تھا کہ وہ انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG