رسائی کے لنکس

logo-print

اسٹاک بروکرز کا آئی ایم ایف معاہدہ عام کرنے کا مطالبہ


فائل فوٹو

اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی کے بعد حکومت پاکستان کے مشیر عبدالحفیظ شیخ نے جمعے کو اسٹاک بروکرز سے ملاقات کی ہے۔ عبدالحفیظ شیخ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت مارکیٹ میں بہتری لانے کے لئے تعاون کرے گی۔

اسٹاک بروکرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹ میں پھیلی غیر یقینی صورتحال کے سبب آئی ایم ایف معاہدہ عام کیا جائے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مشیر خزانہ نے اسٹاک مارکیٹ میں بہتری کے لئے 20 ارب کا 'مارکیٹ سپورٹ فنڈ' قائم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج رواں ہفتے شدید ترین مندی کا شکار رہی اور ایک ہفتے کے دوران مارکیٹ میں پندرہ سو چالیس پوائٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

یوں تقریباً 15 سال بعد اسٹاک مارکیٹ کو اس ہفتے کی بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست مندی کے رجحان کی وجوہات میں ماہرین روپے کی قدر میں مسلسل کمی، شرح سود میں اضافہ اور حکومتی پالیسی واضح نہ ہونا قرار دے رہے ہیں۔

گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں مجموعی طور پر 1540 پوائنٹس کی کمی آئی ہے۔ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ہنڈرڈ انڈیکس میں 816 پوائنٹس کی کمی ہوئی منگل کو 15، بدھ کو 420 پوائنٹس، جمعرات کو 320 پوائنٹس جبکہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر جمعے کے روز 804 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

اس دوران اسٹیٹ بینک نے پیر کے روز مانیٹری پالیسی جاری کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد روپے کی قدر میں کمی کے بعد شرح سود میں اضافے کا خطرہ بھی منڈلانے لگا ہے۔

خیال رہے کہ شرح سود کا اعلان رواں ماہ کے آخر میں ہونا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسٹیٹ بینک یہ اعلان دو ہفتے قبل ہی کررہا ہے۔

آئی ایم ایف معاہدہ اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجہ؟

معاشی ماہرین کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان طے پانے والا معاہدہ اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی بڑی وجہ ہے۔

سرمایہ کار عارف حبیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹاک مارکیٹ میں رواں ہفتے مندی کی وجوہات میں ایکسچینج ریٹ اور نئی مانیٹری پالیسی کے علاوہ آئی ایم ایف معاہدے کا بھی عمل دخل ہے۔

ان کے بقول سرمایہ کار دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جبکہ شرح سود میں اضافے کے باعث منی مارکیٹ میں زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔

عارف حبیب نے بتایا کہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے ساتھ اسٹاک بروکرز کی ملاقات میں اسٹاک مارکیٹ کو بحرانی صورتحال سے نکالنے کے لئے متعدد تجاویز پر اتفاق ہوا ہے۔

ایک تجویز 'مارکیٹ سپورٹ فنڈ' کا قیام ہے اس کے ساتھ پالیسی سازوں کی جانب سے ایکسچینج ریٹ، مانیٹری پالیسی اور آئی ایم ایف پروگرام کی تفصیلات عام کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ ان کے بقول حکومت کی جانب سے تجاویز پر عمل درآمد پر پیر سے مارکیٹ میں بہتری آ سکتی ہے۔

اخبار بزنس ریکارڈر کے تجزیہ نگار صہیب جمالی کہتے ہیں کہ عام انتخابات کے بعد سے لے کر اب تک اسٹاک مارکیٹ میں 18 فیصد گراوٹ آئی ہے۔

ان کے بقول 24 مئی 2017 کو انڈیکس بلند ترین سطح 52876 پوائنٹس پر تھا جو انتخابات سے دو روز قبل 23 جولائی 2018 کو 40463 تک پہنچ گیا۔ اسی طرح انتخابات کے بعد سے اب تک مارکیٹ پوائنٹس میں 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

معاشی تجزیہ کار سہیل شہزاد کے مطابق مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال کو ختم ہونا چاہئے اور اس ضمن میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا جلد اعلان خوش آئند ہے۔ ان کے مطابق روپے کی قدر اور شرح سود کے حوالے سے حکومت جلد اقدامات کرے تاکہ سرمایہ کاروں پر صورتحال واضح ہو سکے۔

سہیل شہزاد کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں بدترین مندی کے باوجود بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور انہیں امید ہے کہ آئندہ ہفتے سے مارکیٹ میں بہتری آئے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG