رسائی کے لنکس

سیز فائر کی مبینہ خلاف ورزی، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر وزارتِ خارجہ طلب


پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال کے پہلے 12 روز کے دوران بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی معاہدے کی 70 خلاف ورزیاں کی گئیں۔

پاکستان نے متنازع علاقے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر فائربندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کرنے پر بھارت سے احتجاج کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ سے جمعے کو جاری بیان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل برائے جنوبی ایشیا اور سارک محمد فیصل نے اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو جمعے کو وزارتِ خارجہ طلب کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔

بیان کے مطابق 11 جنوری کو لائن آف کنٹرول پر کوٹ کوٹیرا سیکٹر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے ایک 65 سالہ خاتون حسین بی بی ہلاک ہو گئی تھیں۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بار ہا تحمل کی پالیسی روا رکھے جانے کی تاکید کے باوجود بھارت مبینہ طور پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی میں ملوث ہو رہا ہے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رواں سال کے پہلے 12 روز کے دوران بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی معاہدے کی 70 خلاف ورزیاں کی گئیں، جن میں اب تک ایک شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ 2017ء میں بھارت کی طرف سے فائر بندی معاہدے کی 1900 سے زائد مرتبہ خلاف ورزی کی گئی، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی اس طرح خلاف ورزی خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے جب کہ ایک مرتبہ پھر بھارت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ 2003ء میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے۔

بھارت کی طرف سے پاکستان کے دعوے اور ڈپٹی ہائی کمشنر کی طلبی پر فوری طور پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن ماضی میں دونوں ہمسایہ ملک فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے آئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG