رسائی کے لنکس

1980 کی پاکستان سپر لیگ


پچاس سال پہلے آسٹریلیا میں پہلا ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میچ کھیلا گیا تو سب کے ذہنوں میں ایک سوال ابھرا، اگر ماضی کے کرکٹرز کو یہ کرکٹ کھیلنے کا موقع ملتا تو وہ کیسے پرفارم کرتے؟

مثال کے طور پر 1930 اور 1940 کی دہائی میں ڈان بریڈمین نے رنز کے انبار لگائے۔ ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کے ریکارڈز ان کی کامیابی کا ثبوت ہیں۔ لیکن کم گیندوں پر زیادہ رنز بنانے کی وجہ سے ون ڈے کرکٹ کے بھی کامیاب بیٹسمین ہوتے۔

لیکن سب کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا۔ حنیف محمد سست بیٹنگ کرتے تو انھیں ون ڈے کرکٹ کون کھلاتا؟ سنیل گاواسکر اور جیف بائیکاٹ ٹیسٹ کرکٹ میں بڑے نام تھے، لیکن ون ڈے کرکٹ میں اتنی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

پاکستان سپر لیگ دیکھ کر خیال آتا ہے کہ اگر بیس اوورز کے میچوں کا یہ ٹورنامنٹ 1980 کے آس پاس کھیلا جاتا تو کون سے کھلاڑی ٹیموں میں شامل ہوتے اور کیا کمال دکھاتے؟

کراچی کی ٹیم میں آصف اقبال، مشتاق محمد، ظہیر عباس، جاوید میانداد، لاہور کی ٹیم میں ماجد خان، وسیم راجا، عمران خان، سرفراز نواز جیسے نام ہوتے۔ ان دنوں کراچی اور لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں کے اتنے کھلاڑی سامنے نہیں آتے تھے۔ محسن خان، منصور اختر، ہارون رشید، وسیم باری، اقبال قاسم، سکندر بخت، سلیم یوسف، شعیب محمد، قاسم عمر، تسلیم عارف، توصیف احمد، مدثر نذر، عبدالقادر، سلیم ملک، اعجاز فقیہہ، کیسے کیسے نام تھے۔ ان میں سے کچھ کوئٹہ میں شامل ہوجاتے، کئی پشاور کی ٹیم کا حصہ بن جاتے، اسلام آباد اور ملتان بھی اچھے کھلاڑیوں کا چناؤ کرتے۔

غیر ملکی کھلاڑیوں کی کہکشاں بھی سپر لیگ کی رونق بڑھانے آتی۔ انگلینڈ کے ڈیوڈ گاور، ایان بوتھم، مائیک گیٹنگ، گراہم گوچ، باب ولس، ٹونی گریگ، ایلن ناٹ، آسٹریلیا کے گریگ چیپل، ایان چیپل، ڈینس للی، راڈنی مارش، ایلن بورڈر، جیف تھامسن، ویسٹ انڈیز کے گورڈن گرینج، ڈیسمنڈ ہینز، ویوین رچرڈز، رچی رچرڈسن، میلکم مارشل، جوئیل گارنر، مائیکل ہولڈنگ، نیوزی لینڈ کے گلین ٹرنر، رچرڈ ہیڈلی، جان رائٹ، لانس کینز اور سری لنکا کے سدتھ ویٹمنی، رنجن مدوگالے، روی رتنائیکے اور اسانتھا ڈی میل پاکستانی فرنچائزز کے لیے دستیاب ہوتے۔

پاکستان اور بھارت کے سیاسی تعلقات ان دنوں بہتر تھے اس لیے دلیپ وینگسارکر، مہندر امرناتھ، کپیل دیو اور روی شاستری بھی پاکستانی ٹیموں سے کھیل سکتے تھے۔

آئی سی سی نے تب جنوبی افریقہ پر پابندی لگائی ہوئی تھی۔ لیکن ممکن ہے کہ پیٹر کرسٹن، گارتھ لی روکس، کلائیو رائس، گریم پولاک اور باب وولمر بھی سپرلیگ میں ان ایکشن ہوتے۔

کرکٹ ویڈیو گیمز آنے کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ اپنی پسند کی بہترین ٹیم خود بنائیں اور اس میں ماضی اور حال کے بہترین کھلاڑی شامل کرکے کمپیوٹر پر میچ کھیلیں۔ اگر آپ کو ایسا موقع دیا جائے تو 1980 میں پاکستان سوپر لیگ میں کون سی ٹیم میں کون سے کھلاڑی شامل کرنا پسند کریں گے؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG