رسائی کے لنکس

حسین نواز کی استدعا مسترد، تحقیقاتی ٹیم وڈیو ریکارڈنگ جاری رکھے گی


حسین نواز
حسین نواز

ججوں کا مزید کہنا تھا کہ ملکی قانون کے مطابق، وڈیو کو بطور شواہد پیش نہیں کیا جا سکتا، تاوقتیکہ پارلیمان اس قانون میں ترمیم کرے

عدالت عظمیٰ نے وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں شریف خاندان کے غیر ملکی اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو اپنی کارروائی کی ریکارڈنگ سے روکے جانے کی استدعا کی گئی تھی۔

منگل کو تین رکنی بینچ نے تحقیقاتی ٹیم کو اپنی کارروائی کی آڈیو/وڈیو ریکارڈنگ جاری رکھنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ یہ بظاہر بیانات قلمند کرنے میں کسی بھی طرح کی غلطی سے بچنے کے لیے کی جا رہی ہے۔

ججوں کا مزید کہنا تھا کہ ملکی قانون کے مطابق، وڈیو کو بطور شواہد پیش نہیں کیا جا سکتا، تاوقتیکہ پارلیمان اس قانون میں ترمیم کرے۔

گزشتہ ماہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پہلی مرتبہ پیش ہونے کے بعد حسین نواز کی ایک تصویر منظر عام پر آئی تھی جس میں وہ بظاہر تحقیقاتی ٹیم کے سوالوں کا سامنا کر رہے ہیں یا پھر پوچھ گچھ کے منتظر ہیں۔

حزب مخالف کی طرف سے الزام عائد کیا گیا کہ یہ تصویر حکومت نے افشا کروائی جس کا مقصد تحقیقات کے عمل کو مشکوک بنانا ہے۔ لیکن حکومت نے اس الزام کو مسترد کیا جب کہ حسین نواز نے تصویر افشا کیے جانے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

حسین نواز کی افشا ہونے والی تصویر
حسین نواز کی افشا ہونے والی تصویر

منگل کو ہونے والی سماعت میں بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان کا کہنا تھا کہ تصویر افشا کرنے والے کی نشاندہی ہو چکی ہے اور انھوں نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ اس معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ کو عام کیا جائے۔

علاوہ ازیں، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو سول انٹیلی جنس ادارے انٹیلی جنس بیورو کی طرف سے تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے سے متعلق تفصیلی جواب بھی عدالت میں پیش کرنے کا کہا گیا۔

عدالتی کارروائی سے متعلق ذرائع ابلاغ میں اعتراضات اور اپنی تشریحات پر بھی بینچ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں اس طرح کی مہم چلانے سے گریز کیا جائے۔

تاہم، منگل کو بھی عدالتی کارروائی کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اپنی روایت کو برقرار رکھا۔

تحریک انصاف کے ایک مرکزی راہنما فواد چودھری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو عدالتی کارروائی سے آگاہ کرتے ہوئے ایک بار پھر حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ تحقیقاتی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

اُن کے بقول، "لگ یوں رہا ہے کہ جس طرح ہمیشہ ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن کو لگ رہا ہے کہ کشتی ڈوب رہی ہے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پورے نظام کو لے کر ڈوبے اگر سپریم کورٹ کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے اور تحقیقات میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں تو اس کا واحد مقصد یہی ہے کہ اپ یہ چاہتے ہیں کہ نظام ڈوب جائے۔"

دوسری طرف، مسلم لیگ ن کے قانون ساز طلال چودھری نے تحریک انصاف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت تحقیقاتی عمل پر اپنے قانونی تحفظات کو قانون کے مطابق عدالت کے سامنے لے جانے پر حق بجانب ہے۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ،"سوال اٹھانا ہمارا قانونی حق ہے اور ہم اپنا حق عدالت کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں ان کیمروں کے توسط سے عوام کے سامنے بھی رکھتے ہیں کہ کیا انصاف ان سوالوں کا جواب آئے بغیر ہو سکتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کو مسلم لیگ ن کے قانونی ماہرین تفصیل سے دیکھیں گے جس کے بعد اس پر آئندہ لائحہٴ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG