رسائی کے لنکس

logo-print

عدالت عظمیٰ نے تلور کے شکار پر پابندی ختم کر دی


پاکستان میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی عہدیدار ڈاکٹر عظمیٰ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس پرندے کا شکار منتظم انداز میں کیا جائے جس میں اس کی نسل کو لاحق خطرے کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے تلور کے شکار پر عائد کی گئی مکمل پابندی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

اس پرندے کو عالمی سطح پر معدومی کے خطرے سے دوچار پرندوں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ان کی تعداد صرف 97000 رہ گئی ہے۔

گزشتہ اگست میں سپریم کورٹ نے اس ضمن میں دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اس کے شکار پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔

جمعہ کو پابندی کالعدم قرار دیے جانے کا فیصلہ عدالت عظمیٰ کے جج میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کثرت رائے سے دیا۔

بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس فیصلے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے اختلافی نوٹ تحریر کیا۔

اس نسل کے پرندے پاکستان کے جنوب اور جنوب مغربی علاقوں میں موسم سرما کے دوران بڑی تعداد میں آتے ہیں جن کا شکار کرنے کے لیے عرب ممالک کے شاہی خاندانوں کے لوگ بھی ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔

شکار پر پابندی عائد کیے جانے کے خلاف وفاق، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے نظر ثانی کی اپیل دائر کر رکھی تھی۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد اس پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو کہ جمعہ کو سنایا گیا۔

حکومت پاکستان اس پرندے کے شکار کے لیے خصوصی اجازت نامہ جاری کرتی ہے جس کے تحت دس روز کے دورانیئے میں ایک سو پرندوں کو شکار کیا جا سکتا ہے۔

عرب شیوخ روایتی انداز میں بازوں کے ساتھ اس پرندے کا شکار کرنے یہاں آتے ہیں اور حکام کے بقول اس سرگرمی سے مقامی آبادی کے لیے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں بلکہ یہ پاکستان اور عرب ممالک کے مابین خارجہ پالیسی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

جنگلی حیات کی بقا کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ شکار کے خلاف نہیں لیکن اس پرندے کی بقا اور افزائش کے لیے مناسب اور موثر اقدام بھی ضروری ہیں۔

پاکستان میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی عہدیدار ڈاکٹر عظمیٰ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس پرندے کا شکار منتظم انداز میں کیا جائے جس میں اس کی نسل کو لاحق خطرے کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔

"پابندی کو کھولنے سے پہلے سب سے پہلے یہ کیا جائے کہ اس پرندے کا سروے کیا جائے اور پھر ان ہی علاقوں میں شکار کی اجازت دی جائے جن میں اس پرندے کی آبادی اس قابل ہے کہ وہاں تھوڑا بہت شکار کیا جا سکے۔ پھر اس (سرگرمی) سے حاصل ہونےو الے فنڈز کو وہاں علاقے کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے جو کہ ہوتا رہا ہے لیکن ساتھ ساتھ اس پرندے کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کیا جائے اور جو بھی اس پرندے کی آبادی کے اعدادو شمار آتے ہیں اس کو بھی پیش کیا جائے۔"

ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً پانچ سے سات ہزار تلور سائبیریا سے پاکستان کا رخ کرتے ہیں اور یہاں ستمبر کے اوائل سے فروری تک عارضی بسیرا کر کے اپنے آبائی مسکن کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

لیکن ڈاکٹر عظمیٰ کہتی ہیں کہ اس پرندے کی تعداد اندازوں پر مبنی ہے اور ان کے بقول تفصیلی اور مستند تعداد کے لیے سروے کیا جانا بھی ضروری ہے جو کہ گزشتہ کئی برسوں سے نہیں ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG