رسائی کے لنکس

logo-print

خدیجہ حملہ کیس: ملزم شاہ حسین کی قید کی سزا بحال


سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر حملہ کرنے والے ملزم شاہ حسین کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے ملزم کو سنائی گئی پانچ سال قید کی سزا بھی بحال کر دی ہے۔ کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

بدھ کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے خدیجہ صدیقی حملہ کیس کی سماعت کی۔ ملزم شاہ حسین عدالت میں پیش ہوا۔

سماعت کے دوران اپنے دلائل میں خدیجہ صدیقی کے وکیل کا کہنا تھا کہ مجرم کی بریت کا فیصلہ دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے مقدمے کے مکمل شواہد کو نہیں دیکھا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجرم نے متاثرہ لڑکی پر خنجر کے 23 وار کیے جب کہ دو مرتبہ گردن کو بھی نشانہ بنایا۔ حملے کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا اور ڈاکٹروں کے مطابق وہ اس وقت شدید زخمی تھیں اور ان کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔

خدیجہ کے وکیل نے کہا کہ حملے کے وقت خدیجہ صدیقی حواس میں نہیں تھیں اور انہوں نے ڈاکٹر کو بھی اجنبی قرار دیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ خدیجہ کی گردن کے اگلے حصے پر کوئی زخم نہیں تھا، وہ بول سکتی تھیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیس میں ہائی پروفائل کا لفظ کئی مرتبہ استعمال ہوا۔ کیا ہائی پروفائل کے لیے قانون بدل جاتا ہے؟ جرم جرم ہوتا ہے، ہائی ہو یا لو پروفائل۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خدیجہ صدیقی ملزم کو جانتی تھیں لیکن پھر بھی درخواست میں ملزم کو واقعے کے پانچ روز بعد نامزد کیا گیا۔ خدیجہ کی بہن تو اپنے حواس میں تھیں تب بھی ملزم کو تاخیر سے مقدمے میں دیر سے کیوں نامزد کیا گیا؟ کیا بہن نے بھی اس میں تاخیر کی؟

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ عام طور پر قتل کی وجہ ہوتی ہے کہ "میری نہیں تو کسی کی نہیں" جب کہ دوسری عمومی وجہ لڑکی کی طرف سے بلیک میلنگ ہوتی ہے تاہم خدیجہ کے کیس میں دونوں وجوہات سامنے نہیں آئیں۔

ملزم کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ شاہ حسین اور خدیجہ کا ایک دوسرے سے قریبی تعلق تھا۔ دونوں کے گھر والے بھی ایک دوسرے کو جانتے تھے اور دونوں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا۔

وکیل نے کہا کہ اگر شاہ حسین نے حملہ کیا تھا تو ابتدا میں ہی ان کا نام لینے میں کیا امر مانع تھا؟ شاہ حسین اس حملے میں ملوث نہیں تھا۔ ڈاکٹر نے بھی لکھا کہ خدیجہ جب اسپتال لائی گئی تو ہوش و حواس میں تھی۔

بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ خدیجہ اور شاہ حسین کے درمیان تعلقات مقدمہ سے سات ماہ قبل ختم ہو گئے تھے۔ لیکن اس کے بعد بھی دونوں ایک ہی کلاس میں پڑھتے رہے۔

جسٹس منصور نے کہا کہ اصل سوال ہی یہ ہے کہ خدیجہ پر حملہ کس نے کیا؟

چیف جسٹس نے متاثرہ لڑکی اور مجرم سے متعلق ریمارکس دیے کہ یہ دونوں قانون کے طالبِ علم تھے اور دونوں نے ہی عملی طور پر قانون کا جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ اس پر کمرۂ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔

فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے دس منٹ کے لیے عدالت برخاست کر دی اور پھر مختصر فیصلہ سنایا۔

عدالت نے مجرم شاہ حسین کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد پولیس نے مجرم کو احاطۂ عدالت سے گرفتار کر لیا۔

سپریم کورٹ نے ملزم کی پانچ سال قید کی سزا بھی بحال کر دی۔ کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خدیجہ صدیقی نے کہا کہ اس فیصلے نے یہ بات ثابت کر دی کہ اگر آپ کے پاس طاقت ہے اور اس کا غلط استعمال کیا ہے تو پکڑ ہو گی۔ آج قانون کی بالادستی کی جیت ہوئی ہے۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مئی 2016ء میں قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا لیکن خوش قسمتی سے ان کی جان بچ گئی تھی۔

حملے کا مقدمہ خدیجہ کے کلاس فیلو شاہ حسین کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا تھا جس کے نتیجے میں ذیلی عدالت نے ملزم کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

سیشن کورٹ نے مجرم کی سزا کم کر کے پانچ سال کر دی تھی لیکن بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے اسے بری کردیا تھا۔

2018ء میں ملزم کی رہائی پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا۔

ملزم شاہ حسین کے والد وکیل رہنما تنویر ہاشمی ہیں جنھوں نے از خود نوٹس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے ایک قرارداد بھی منظور کرائی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG