رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ: نیب کے چار اعلیٰ افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم


فائل فوٹو

عدالت کے حکم نامے میں کہا گیا کہ عہدوں سے ہٹانے جانے والے ڈائریکٹر جنرل کو معمول کے مطابق سرکاری مراعات مل سکیں گیں۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے احتساب کے قومی ادارے ’نیب‘ کے چار سینیئر افسران کو فوری طور پر اُن کےعہدوں ہٹانے کا حکم دیا ہے۔

قومی احتساب بیورو ’نیب‘ میں غیر قانونی تقرریوں سے متعلق معاملے کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور اس معاملے کی سماعت جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

سپریم کورٹ نے بدعنوانی کے خلاف آگاہی سے متعلق نیب کی ڈائریکٹر جنرل عالیہ رشید کے علاوہ، کوئٹہ، لاہور اور کراچی میں قومی احستاب بیورو کے ڈائریکٹر جنرل کو اُن کے عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا۔

عدالت کے حکم نامے میں کہا گیا کہ عہدوں سے ہٹانے جانے والے ڈائریکٹر جنرل کو معمول کے مطابق سرکاری مراعات مل سکیں گیں۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ نے کہا کہ عدالت کسی پر الزام نہیں لگا رہی بلکہ اس حکم نامے کا مقصد ادارے میں تعیناتی کے عمل کو شفاف بنانا ہے، تاکہ اہل افراد کو اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نیب کے لگ بھگ 100 افسران کی اہلیت اور اُن کی تعلیمی قابلیت جانچنے کے لیے ایک کمیٹی بنا چکی ہے۔

پاکستان کے قومی احستاب بیورو کو حالیہ مہینوں میں حزب مخالف کی جماعتوں خاص طور پر تحریک انصاف کی طرف سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہتے رہے ہیں کہ ’پاناما لیکس‘ میں وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے بچوں نام سامنے آنے کے بعد ’نیب‘ کو از خود اس بارے میں کارروائی شروع کر دینی چاہیئے تھی۔

’پاناما لیکس‘ سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران نیب کے چیئرمین کو بھی طلب کیا گیا اور عدالت نے بعض معاملات میں اس ادارے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG