رسائی کے لنکس

پاکستان میں پہلی بار بائیو میٹرک میشنوں کی تجرباتی مشق


الیکشن کمیشن کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ اس تجرباتی مشق کا تعلق حلقہ این اے 120 کے الیکشن سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ عمل حلقے کے نتائج پر اثر انداز ہوگا۔

پاکستان میں الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120 میں رواں ماہ ہونے والے ضمنی انتخاب میں پہلی مرتبہ 100 بائیو میٹرک مشینوں کو تجرباتی بنیادوں پر 39 پولنگ اسٹیشنز پر آزمایا جائے گا۔

کمیشن کے مطابق بائیومیٹرک مشینوں کا تجرباتی بنیادوں پر استعمال انتخابی عمل میں شفافیت لانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق تجرباتی استعمال کے دوران مشین کے استعمال میں ووٹروں کے لیے دستیاب مختلف سہولتوں اور دشواریوں کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان میں بائیو میٹرک ووٹر مشینوں کو کسی انتخاب میں آزمایا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مشین کے ذریعے ایک ووٹر کی تصدیق 15 سے 18 سیکنڈ میں متوقع ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اس سلسلے میں 12 ستمبر کو لاہور میں انتخاب کے میں شریک امیدواران اور صحافیوں کے سامنے مشق کی جائے گی اور یہ بتایا جائے گا کہ بائیو میٹرک مشینوں کو استعمال میں لاتے ہوئے ووٹ کا حق کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حکام کے مطابق بائیو میٹرک مشینیں سیاسی پارٹیوں اور مختلف امیدواروں کی خواہش کے پیشِ نظر تجرباتی بینادوں پر استعمال کی جا رہی ہیں۔

تاہم الیکشن کمیشن کی طرف سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس تجرباتی مشق کا تعلق حلقہ این اے 120 کے الیکشن سے نہیں ہے اور نہ ہی حلقے کے نتائج پر یہ اثر انداز ہوں گے، بلکہ یہ محض ایک تجرباتی مشق ہو گی۔

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 کی نشست سابق وزیر اعظم ںواز شریف کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی طرف سے 28 جولائی کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

اس حلقے میں 17 ستمبر کو ضمنی انتخاب ہوگا جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز اور پاکستان تحریکِ انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد کے درمیان اصل مقابلہ متوقع ہے۔

کلثوم نواز ان دنوں علیل ہیں اور گزشتہ ہفتے ہی لندن میں ان کی سرجری ہوئی تھی۔ سابق خاتونِ اول کی انتخابی مہم اُن کی بیٹی مریم نواز چلا رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG