رسائی کے لنکس

الماس بوبی کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے بعد اب ضروری ہے کہ حکومت خواجہ سرا برادری کو سماج کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

پاکستان میں رواں سال ہونے والی ملک کی چھٹی مردم شماری میں خواجہ سرا برداری کو پہلی بار بطور تیسری جنس کے طور پر شمار کیا گیا ہے اور حال ہی میں جاری ہونے والے اس کے نتائج کے مطابق ملک میں خواجہ سرا برداری کی تعداد 10 ہزار چار سو اٹھارہ ہے۔

مردم شماری سے قبل اس بارے میں کوئی مصدقہ اعداد و شمار تو دستیاب نہیں تھے لیکن اس برادری کے لوگوں کا دعویٰ رہا ہے کہ ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

اس فرق کے بارے میں مختلف حلقوں کی طرف سے شکوک و شبہات کا اظہار تو کیا جا رہا ہے، لیکن خواجہ سرا برادری کے حقوق کے لیے سرگرم ’شی میل رائٹس پاکستان‘ کی چیئرپرسن الماس بوبی تازہ اعداد و شمار سے بظاہر مطمئن دکھائی دیتی ہیں۔

‘‘جو تعداد سامنے آئی ہے وہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ بے شک ہم اقلیت میں ہیں اور بہت کم تعداد سامنے آئی ہے لیکن یہ ایک حققیت ہے کہ اب ہماری ایک الگ شناخت ہے ۔۔۔تھوڑے بھی ہیں تو حکومت کو ہمارے بنیادی حقوق کے بارے میں دیکھنا چاہیے۔"

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے سینئر وکیل محمد اسلم خاکی کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن ہے کہ بعض خواجہ سراؤں نے سماجی ڈر و خوف کی وجہ سے اپنی شناخت بطور خواجہ سرا ظاہر نہ کی ہو۔

’’یہ اصل تعداد نہیں ہے بلکہ یہ وہ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو رجسٹر کروایا ہے۔۔۔۔جو نفیساتی طور پر خود کو خواجہ سرا تصور کرتے ہیں، ان میں سے اکثر نہیں چاہتے کہ وہ رجسٹر ہوں میں سمجھتا ہوں کہ جوں جوں ان کا اعتماد بحال ہو گا کہ حکومت ان کے فائدے کے لیے کچھ کر رہی ہے تو پھر زیادہ سے زیادہ خوجہ سرا اپنا اندراج کروائیں گے کہ یہ فائدے کا کام ہے۔‘‘

پاکستان میں خواجہ سرا برادری کا شمار ملک کےسماجی طور پر محروم طبقات میں ہوتا ہے اور انہیں معاشرے میں کئی طرح کی سماجی مشکلات کو سامنا ہے ۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں حکومت نے ان کی بہتری کے لیے کئی اقدمات کیے ہیں تاہم خواجہ سرا برداری کے کارکنوں کا کہنا ہے اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے

الماس بوبی کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے بعد اب ضروری ہے کہ حکومت خواجہ سرا برادری کو سماج کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG