رسائی کے لنکس

پاکستان نے امریکہ سے انٹیلی جنس مراکز بند کرنے کے لیے کہا ہے، رپورٹ


پاکستان نے امریکہ سے انٹیلی جنس مراکز بند کرنے کے لیے کہا ہے، رپورٹ

ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کی جانب سے اپنی حدود میں قائم کردہ تین انٹیلی جنس شیئرنگ (خفیہ معلومات کے تبادلے) کے دفاتر کو بند کرنے کے لیے کہا ہے۔

امریکی اخبار 'لاس اینجلس ٹائمز' نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ کوئٹہ اور پشاور میں واقع ان دفاتر کے ذریعے امریکی حکام کی جانب سے طالبان کے خلاف زمینی کاروائی میں مصروف پاکستانی فورسز کے ساتھ سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل کردہ تصاویر، دشمن کے اہداف کے متعلق معلومات اور دیگر انٹیلی جنس کا تبادلہ کیا جا رہا تھا۔

اخبار میں جمعہ کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی فوجی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان مراکز سے بھیجی جانے والی معلومات پاک افغان سرحد کے دونوں جانب کیے جانے والے فوجی آپریشنز میں بھی مددگار ثابت ہو رہی تھیں۔

اخبار کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے انٹیلی جنس شیئرنگ کے ان مراکز کو 'لائژن سینٹرز' کا نام دیا گیا تھا اور انہیں 'انٹیلی جنس فیوژن سیلز' کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

اخبار کو امریکی فوجی حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان میں ایسے کل تین مراکز کام کر رہے تھے جن میں سے دو پشاور جبکہ ایک کوئٹہ میں تھا۔ حکام کے بقول ان مراکز کو بند کر کے یہاں تعینات امریکی عملے کو واپس بلایا جارہا ہے۔

اخبار کے مطابق پاکستان کی جانب سے ان مراکز کی بندش کا حکم اعلانیہ طور پر نہیں دیا گیا ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ دفاتر مستقل طور پر بند کیے جارہے ہیں یا ان کی بندش عارضی ہے۔

تاہم اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان مراکز کی بندش سے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی پاکستانی قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اخبار نے سابق اور موجودہ فوجی حکام کےحوالے سے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے لیے اہداف کی معلومات پاکستان کی جانب سے دیگر انٹیلی جنس چینلز کے ذریعے امریکہ کو فراہم کی جاتی ہیں اور ان معلومات کی فراہمی میں ان مراکز کا کوئی کردار نہیں تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے سفارتی اور عسکری تعلقات میں 2 مئی کے بعد سے خاصی کشیدگی پائی جا رہی ہے جب امریکی کمانڈوز نے پاکستان میں ایک خفیہ یک طرفہ کاروائی کرکے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کردیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے کاروائی کے ردِعمل میں امریکہ سے پاکستانی حدود میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جس پر پینٹاگون کے مطابق عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG