رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ سے انٹیلی جنس تعاون معطل کر دیا ہے: وزیرِ دفاع


منگل کو اپنے خطاب میں خرم دستگیر نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ دونوں ملک صاف گوئی اور کھل کر تمام معاملات پر بات کریں۔

پاکستان کے وزیرِ دفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے انٹیلی جنس اور دفاع کے شعبے میں تعاون معطل کر دیا ہے۔

تاہم اُنھوں نے واضح کیا کہ امریکہ کو پاکستان کی فضائی حدود اور زمینی راستے استعمال کرنے کی سہولت معطل نہیں کی گئی ہے اور ان سہولتوں کی فراہمی بدستور برقرار ہے۔

خرم دستگیر خان نے یہ بات منگل کو اسلام آباد 'انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز' میں ایک سیمینار سے خطاب کے موقع پر کہی۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ انٹیلی جنس تعاون معطل کرنے سے متعلق اُنھیں باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے گزشتہ ہفتے پاکستان کو فراہم کی جانے والی عسکری امداد روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ امداد اس وقت تک بند رہے گی جب تک پاکستان دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات نہیں کرتا۔

منگل کو اپنے خطاب میں خرم دستگیر نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ دونوں ملک صاف گوئی اور کھل کر تمام معاملات پر بات کریں۔

اُنھوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کا راستہ "دھمکیوں، نوٹس دینے اور امداد کی معطلی" سے ممکن نہیں۔

وزیرِ دفاع نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ پاکستان نے اپنی سر زمین سے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کر دی ہیں اور اُن کے بقول پاکستانی سر زمین سے دہشت گردوں کی باقیات کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

اُدھر پاکستان کے ایک مؤقر انگریزی اخبار ڈان نے اپنی خبر میں کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی عسکری امداد روکنے کے اعلان کے بعد اسلام آباد نے گزشتہ 14 برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے جانی و مالی نقصان سے متعلق ایک ’فیکٹ شیٹ‘ یا حقائق پر مبنی رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 14 برسوں کے دوران دہشت گردی میں 74 ہزار پاکستانی ہلاک جب کہ پاکستانی معیشت کو لگ بھگ 123 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

دریں اثنا امریکی کے انٹیلی جنس ادارے ’سی آئی اے‘ کے سربراہ مائیک پومپیو نے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان اب بھی دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے اور اُن کے بقول یہ طرزِ عمل امریکہ کو قبول نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG