رسائی کے لنکس

خطے میں امریکہ کے لیے پاکستان کا ساتھ ضروری ہے: تجزیہ کار


فائل فوٹو

امریکہ کی طرف سے افغان پالیسی میں پاکستان کے اندر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے دعوؤں کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تناؤ کی کیفیت تو نظر آ رہی ہے لیکن ساتھ ہی دہشت گردی جیسے مشترکہ دشمن سے نمٹنے میں تعاون کو جاری رکھنے کے لیے بھی دونوں کے درمیان مختلف سطح پر رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

معاون امریکی وزیر خارجہ ایلس ویلز نے پیر کو دو روزہ دورے پر پاکستان آ کر نئی پالیسی سے متعلق عہدیداروں سے ملاقاتیں کرنی تھیں لیکن اتوار کو پاکستانی دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کی درخواست پر یہ دورہ ملتوی کر دیا گیا جسے باہمی رضا مندی سے دوبارہ طے کیا جائے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے جہاں انسداد دہشت گردی میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا وہیں یہ دعویٰ بھی کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

پاکستان نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے اپنے ہاں تمام دہشت گرد نیٹ ورک ختم کر دیے ہیں اور اب بھی عسکریت پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

اسی اثنا میں افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن نے افغان ٹی وی "طلوع نیوز" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ افغان طالبان کے راہنما اب بھی پاکستانی شہروں میں مقیم ہیں اور امریکہ اس بارے میں جانتا ہے۔

"کوئٹہ شوریٰ، پشاور شوریٰ ان سب کی نشاندہی پاکستان کے اندر شہروں میں ہوئی ہے، ہمیں معلوم ہے کہ افغان طالبان کے راہنما ان علاقوں میں ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف افغانستان میں کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں جب کہ سرحد پار دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہوں سے متعلق امریکہ کی سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل اور واشنگٹن، اسلام آباد سے بات چیت کرتے ہیں۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار سید نذیر کہتے ہیں کہ اگر امریکہ افغانستان میں امن چاہتا ہے تو اسے پاکستان کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس کے رابطوں کو استعمال میں لاتے ہوئے افغانوں کی زیر قیادت امن عمل میں فعال طریقے سے استعمال کیا جائے تو بہتر رہے گا "بجائے اس کے کہ اس پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے الزامات لگائے جائیں۔"

نئی امریکی پالیسی کے سامنے آنے کے بعد سے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن پاکستانی قائدین سے تبادلہ خیال کر چکے ہیں جب کہ اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے بھی اس سلسلے میں عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔

تاہم جہاں اس معاملے پر پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے خاصی برہمی کا اظہار دیکھنے میں آیا ہے وہیں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے اپنا امریکہ کا مجوزہ دورہ موخر کرتے ہوئے روس، چین اور ترکی کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تجزیہ کار سید نذیر کے خیال میں پاکستان اور امریکہ دونوں کو ہی سفارتی طریقوں کو استعمال میں لاتے ہوئے اعتماد سازی کرنا ہوگی لیکن اگر امریکہ سخت رویہ اختیار کرتا ہے تو خطے میں اس کے مفادات کے لیے درست ثابت نہیں ہو گا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان نئی امریکی پالیسی کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور پارلیمان میں اس پر بحث کے بعد وہ دوست ممالک کا دورہ کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG