رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کے ساتھ رابطے جاری ہیں: پاکستان


ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت میڈیا کوریج سے ہٹ کر ہو رہی ہے اور اُن کے بقول وہ اس وقت اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے قاصر ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا ہے کہ امریکہ سے مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں۔

اُن کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے ہی وزیرِ دفاع خرم دستگیر نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے امریکہ سے انٹیلی جنس اور دفاع کے شعبے میں تعاون معطل کر دیا ہے۔

تاہم امریکہ نے اس کے ردِ عمل میں کہا تھا کہ پاکستان نے اُسے تعاون معطل کرنے کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے پاکستان کی سکیورٹی امداد روکے جانے کے بعد دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی اور تعاون معطل کیے جانے کا چرچا تھا کہ جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان باہمی دلچسپی کے اُمور پر مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت میڈیا کوریج سے ہٹ کر ہو رہی ہے اور اُن کے بقول وہ اس وقت اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے قاصر ہیں۔

واضح رہے گزشتہ ہفتے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ’وال سٹریٹ جرنل‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ اب کوئی اتحاد نہیں۔

جب اس بارے میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ وزیرِ خارجہ کے بیان کو اُن کے بقول مکمل پیرائے میں دیکھنا چاہیے۔

ترجمان محمد فیصل نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کے باوجود امریکہ کی طرف سے الزامات اور یک طرفہ طور پر پاکستان کی سکیورٹی امداد بند کرنے پر وزیرِ خارجہ اپنی مایوسی کا اظہار کر رہے تھے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 16 برسوں کے دوران افغانستان میں امریکہ کی زیرِ قیادت اتحاد کو پاکستان اپنی فضائی اور زمینی راہداری فراہم کرتا رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ خطے میں دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی امریکہ کو فراہم کی جانے والی مدد اہم ہے۔

محمد فیصل نے مزید کہا کہ انٹیلی معلومات کے تبادلے پر ہی امریکہ القاعدہ کے خاتمے میں کامیاب ہوا اور اُن کے بقول امریکی قیادت اس کا اعتراف کر چکی ہے۔

امریکہ نے گزشتہ ہفتے پاکستان کو فراہم کی جانے والی عسکری امداد روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ امداد اس وقت تک بند رہے گی جب تک پاکستان دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات نہیں کرتا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی سر زمین سے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کر دی ہیں اور شدت پسندوں کی باقیات کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

جمعرات کو بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان پر افغان جنگجوؤں کی موجودگی کے بارے میں اگر قابلِ عمل انٹیلی جنس معلومات فراہم کی جائیں تو اُن کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG