رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور امریکہ کا دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق


طرفین نے علاقائی سلامتی کے لیے خطرناک انتہا پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا اور شدت پسند گروپ داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے کا بھی اعتراف کرتے عزم کیا کہ اس کے خلاف مل کر کارروائی کی جائے گی۔

پاکستان اور امریکہ نے طویل المدت شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کا کہا ہے۔

دونوں ملکوں کے وزارتی سطح کے واشنگٹن میں ہونے والے اسٹریٹیجک مذاکرات کے بعد جاری ایک مشترکہ بیان کے مطابق مذاکرات میں سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کا اعادہ کیا گیا۔

مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت مشیر خارجہ سرتاج عزیز جب کہ امریکی وفد کی سربراہی جان کیری نے کی تھی۔

دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ تعلیم، سماجی و اقتصادی ترقی، دوطرفہ سرمایہ کاری، انسانی حقوق کی پاسداری و قانون کی بالادستی، خطے کے استحکام اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف جاری اقدام کا دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات ہیں اور ان میں تعاون کا فروغ ضروری ہے۔

امریکہ کے توانائی، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی اپنی حمایت اور تعاون کا یقین دلایا۔

بیان کے مطابق دونوں ملکوں نے بلا تفریق تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں اور افراد بشمول القاعدہ، حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ اور اس کے حامیوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے کے پاکستانی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا۔

طرفین نے علاقائی سلامتی کے لیے خطرناک انتہا پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا اور شدت پسند گروپ داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے کا بھی اعتراف کرتے عزم کیا کہ اس کے خلاف مل کر کارروائی کی جائے گی۔

دونوں ملکوں کے وزارتی سطح کے مذاکرات اب آئندہ سال ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG