رسائی کے لنکس

logo-print

پہلے مرحلے میں دوسوسے زائد افراد کی جنوبی وزیرستان واپسی


پہلے مرحلے میں دوسوسے زائد افراد کی جنوبی وزیرستان واپسی

قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک سال قبل عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کی جانے والی فوجی کارروائی سے پہلے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں میں سے بعض نے واپس جانا شروع کردیا ہے۔

ہفتے کو خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہر ٹانک کے علاقے کھوڑ میں قائم ایک رجسٹریشن سنٹر سے 44خاندانوں کے دو سے زائد افراد کا ایک قافلہ جنوبی وزیرستان کے علاقے چک ملائی کے لیے روانہ ہوا۔

رجسٹریشن سنٹر میں موجود ایک قبائلی رہنماء ملک خانزادہ محسود نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لوگ ان علاقوں میں واپس جارہے ہیں جنہیں عسکریت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں راشن،ٹینٹ اور دیگر اشیائے ضروری کے علاوہ 25ہزار روپے فی خاندان ملے گا۔

جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ عاطف الرحمن نے مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ واپسی کا یہ عمل بالکل رضاکارانہ ہے اور کسی کو زبردستی واپس نہیں بھجوایا جارہا۔

حکومتی عمل داری اور امن وامان کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ علاقے پر فوج کا کنٹرول ہے اور واپسی کا عمل مکمل ہونے کے بعد انتظامیہ قبائلی علاقوں میں مروجہ قوانین کے تحت حکومت کی عمل داری اور امن وامان کو یقینی بنائے گی۔

اعدادوشمار کے مطابق جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے کے 72ہزار سے زائد خاندانوں نے اپنا علاقہ چھوڑ کر خیبر پختونخواہ کے جنوبی شہروں اور قصبوں کی طرف نقل مکانی کی تھی۔

XS
SM
MD
LG