رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کا طالبان کو مذاکرات کی افغان پیش کش کا خیر مقدم


ایک بیان میں پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں جاری خونریزی کا جلد خاتمہ چاہتا ہے۔

پاکستان نے افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔

صدر اشرف غنی نے بدھ کو افغان دارالحکومت میں ہونے والی دوسری ’کابل پراسس‘ کانفرنس سے خطاب جت دوراب افغان طالبان کو امن مذاکرات کی غیر مشروط دعوت دی تھی جسے مختلف حلقوں نے سراہا ہے۔

اس پیش کش کے بعد اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال نے پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ سے ملاقات کر کے اُنھیں آگاہ کیا کہ طالبان کو امن مذاکرات کی دعوت کے ساتھ ساتھ خطے میں امن کے فروغ اور استحکام کے لیے صدر اشرف غنی نے پاکستان سے قریبی رابطوں کا بھی پیغام دیا ہے۔

افغان سفیر نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ بحیثیت قریبی پڑوسی ممالک کے پاکستان اور افغانستان اس عمل کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کریں گے، جو دونوں ممالک کے لیے سود مند ہو گا۔

ایک بیان میں پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں جاری خونریزی کا جلد خاتمہ چاہتا ہے۔

اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد مؤقف کا دہراتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے لیے ضروری ہے اور پاکستان عالمی اور علاقائی سطح پر افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کرتا رہا ہے۔

ملاقات میں افغان سفیر اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ملکوں کو قریبی روابط برقرار رکھنے ہوں گے۔

بین الاقوامی اُمور کے تجزیہ کار ڈاکٹر ظفر جسپال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ مذاکرات ہی افغان تنازع کا سب سے قابل عمل حل ہیں۔

’’یہ بہت اہم ہے کہ پہلی مرتبہ کابل حکومت نے محسوس کیا ہے کہ بغیر طالبان کے اس ملک میں امن نا ممکن ہے اور طالبان کو بھی ان کی تجویز پر سوچنا پڑے گا۔ دوسری طرف خطے میں پاکستان بھی اسٹیک ہولڈر ہے کیوں کہ یہاں افغان مہاجرین مقیم ہیں۔ تو میرا خیال ہے کہ یہ ایک اچھی تجویز ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان کیا اپنے موقف میں کوئی لچک لے کر آتے ہیں یا نہیں۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان اگر مل کر کام کریں گے تو اس سے خطے میں امن کے حصول کی جانب نمایاں پیش رفت ہو سکتی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے بھی وائس آف امریکہ سے گفتگو میں افغان صدر کی طرف سے امن کے حصول کے لیے طالبان کو مذاکرات کی پیش کش کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے بدھ کو نیوز بریفنگ میں کہا تھا کہ اسلام آباد کا اصولی مؤقف ہے کہ افغانستان میں گزشتہ 17 برسوں سے جاری عسکری کوششوں سے مطلوبہ نتائج نہیں نکلے ہیں اس لیے اس مسئلے کا سب سے موزوں حل افغانوں کی زیرِ قیادت سیاسی مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG