رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان، افغان تنازع کے حل کا انتہائی کلیدی جُزو ہے: ایلس ویلز


محکمہٴ خارجہ کی اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ ’’موجودہ امریکہ۔پاکستان تعلقات سے ہرگز یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم اِس تعلق کو ترک کرنے کا سوچ رہے ہیں‘‘

امریکہ کی نائب معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور، ایلس ویلز نےکہا ہے کہ ’’امریکہ پاکستان کو افغانستان میں استحکام کے حل کا ایک انتہائی کلیدی جُزو گردانتا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’موجودہ امریکہ۔پاکستان تعلقات سے ہرگز یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم اِس تعلق کو ترک کرنے کا سوچ رہے ہیں‘‘۔

ایلس ویلز نے یہ بات ’وائس آف امریکہ‘ کی ’ازبک سروس‘ کی نمائندہ، نوبہار اماموف کے ساتھ دو روز قبل گفتگو کرتے ہوئے کی۔ اُن کے الفاظ میں، ’’برعکس اِس کے، ہم یقینی طور پر ساری پُرتشدد انتہاپسند تنظیموں کے خلاف پاکستان کے ساتھ پارٹنرشپ کے خواہاں ہیں‘‘۔

اُن سے پوچھا گیا تھا کہ جب پاکستان کے ساتھ تعلقات میں تلخی کا عنصر نمودار ہوتا ہے، تو رسد کے متبادل راستوں کی بات چھڑ جاتی ہے اور اس حوالے سے ذکر چل پڑتا ہے وسط ایشیائی ملکوں کا۔ ہمیں پتا ہے کہ ’ناردرن ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک‘ پر کام کبھی رُکتا نہیں ہے۔ کیا ہم مستقبلِ قریب میں نئے کسی معاہدے، نئے سمجھوتے یا نئی حکمت عملی طے کیے جانے کی توقع کرسکتے ہیں۔

اس پر، امریکی محکمہٴ خارجہ کی اعلیٰ سفارت کار نے کہا کہ اُن کے خیال میں امریکہ خطے کے ملکوں کے ساتھ ہمیشہ تجارتی و مواصلاتی تعلقات برقرار رکھنے پر توجہ دیتا ہے۔ ’’لیکن میں کہوں گی کہ بات جب پاکستان کی ہو، تو ہم پاکستان کو افغانستان میں استحکام کے حل کے حوالے سے ایک انتہائی کلیدی جُزو سمجھتے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’جنوبی ایشیا کی حکمتِ عملی کا مقصد پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے، تاکہ اُس کے مفادات کو مدِنظر رکھا جائے اور مذاکرات کی میز پر مانا جائے، جب کہ ساتھ ہی ہم مذاکرات میں طالبان کی شرکت کے معاملے کو آگے بڑھانے، اس کی ترغیب دینے یا سہولت کار بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں‘‘۔

وسط ایشیائی ملکوں کے حوالے سے، ایلس ویلز نے کہا کہ خطے کا ’سی 5 پلس 1‘ پروگرام ’’دہشت گردی کا انسداد اور پُرتشدد انتہاپسندی کا تدارک ایک اہم ستون کا درجہ رکھتا ہے۔ یہی وہ شعبہ جات ہیں جن میں ہم اور عالمی برادری دلچسپی رکھتی ہے‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’’وسط ایشیائی سربراہان اور ازبک قیادت ہمیشہ پُرتشدد انتہاپسندی کے خلاف پرعزم کھڑی ہے۔ اُنھیں اس امکان اور خدشے پر شدید تشویش لاحق رہتی ہے کہ کہیں دہشت گرد تنظیمیں خطے میں پیر نہ جما لیں‘‘۔

اعلیٰ امریکی عہدے دار نے کہا کہ ’’عراق اور شام میں داعش کی مثال سامنے ہے، جسے شکست دی گئی ہے، ہمیں اس ماحول کی بہتر پرکھ ہے۔ ہمیں ان خدشات سے چوکنا رہنا ہوگا‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG