رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب نے فوج مانگی ہے نہ بھیجیں گے: سرتاج عزیز


منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین کی زیر صدارت اجلاس میں رازداری والی بریفنگ کے دوران سرتاج عزیز نے کہا کہ ’کسی بھی ملک میں فوج بھیجنا پاکستان کی خارجہ پالیسی نہیں۔ پاکستان اپنی فوج صرف امن مشن کے لئے بھیجتا ہے‘

وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کا دورہ کرنے والے سعودی عرب کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع میں سے کسی نے بھی 34 ملکی اتحاد کے لئے ’نہ تو فوج بھیجنے کا مطالبہ کیا، نہ ہی پاکستان وہاں اپنی زمینی فوج بھیجے گا‘۔

منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کے چیئرمین اویس احمد لغاری کی زیر صدارت اجلاس میں ’اِن کیمرہ بریفنگ‘ کے دوران سرتاج عزیز نے کہا کہ کسی بھی ملک میں فوج بھیجنا پاکستان کی خارجہ پالیسی نہیں۔ پاکستان اپنی فوج صرف امن مشن کے لئے بھیجتا ہے۔

بریفنگ کے دوران انہوں نے سعودی عرب، ایران کشیدگی کے حوالے سے بہت سے پہلو واضح کئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’پاکستان سعودی عرب فوج نہیں بھیجے گا۔ تاہم، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے معلومات کا تبادلہ اور اسلحہ کی فراہمی میں حصہ لے گا۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان، ایران سعودی عرب تنازع میں کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا۔ ایران سعودی عرب تنازع پر ’او آئی سی‘ کا اجلاس 16 جنوری کو ہوگا جس میں پاکستان باقاعدہ طور پر اپنا موقف پیش کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اس لئے ایران سعودی عرب کا تنازع پرامن طریقے سے حل ہونا چاہئے۔

XS
SM
MD
LG