رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں یوم عاشور عقیدت و احترام سے منایا گیا


حضرت امام حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور ان کے رفقا کی کربلا کے میدان میں دی جانے والی عظیم قربانی کی یاد میں یوم عاشور پورے پاکستان میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔

اس موقع پر ملک کے تمام شہروں اور قصبوں میں چھوٹے بڑے جلوس برآمد ہوئے۔ ان جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

کراچی، لاهور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور سمیت دیگر شہروں میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد تھی، جب کہ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ سروس بھی تمام دن معطل رہی۔

کراچی میں یوم عاشور پر سیکیورٹی انتظامات
کراچی میں یوم عاشور پر سیکیورٹی انتظامات

کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینہ ایرانیاں کھارادر پر ختم ہوا۔ جلوس کی گزرگاہوں پر منتظمین کی جانب سے پانی اور دودھ کی سبیلیں لگائی گئیں جب کہ جلوس کی سیکیورٹی کے لیے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ جلوس کی نگرانی کے لیے پولیس کی جانب سے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی قائم کیا گیا جس میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے جلوس کی نگرانی کی گئی۔ اس کے علاوہ جلوس کی فضائی نگرانی بھی ہوئی۔

حیدرآباد، نواب شاہ، میرپور خاص، سکھر سمیت سندھ کے دیگر چھوٹے اور بڑے شہروں سے بھی ماتمی جلوس برآمد ہوئے جو اپنے مقررہ راستوں سے گزر کر اختتام پذیر ہوئے۔

یوم عاشور کے موقع پر لاهور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں سے بھی ماتمی جلوس برآمد ہوئے۔ لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس کی سیکورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے جس میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو جلوس کی گزرگاہوں پر تعینات رہی اور شہر بھر میں موبائل فون سروس کو بھی معطل رکھا گیا۔

کوئٹہ میں یوم عاشور
کوئٹہ میں یوم عاشور

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی یوم عاشور کی مناسبت سے ماتمی جلوس برآمد ہوئے۔ کوئٹہ میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس علم دار روڈ سے برآمد ہوا، جلوس کی سیکیورٹی کے پیش نظر پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ پشاور میں یوم عاشور کے موقع پر شہر بھر سے چھوٹے بڑے ماتمی جلوس برآمد ہوئے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یوم عاشور کے موقع پر چھوٹے بڑے جلوس برآمد ہوئے جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے اختتام پذیر ہوئے۔ اس موقع پر شہر بھر میں فون سروس بھی معطل رہی۔

گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھی یوم عاشور کی مناسبت سے ماتمی جلوس برآمد ہوئے۔

اسلام آباد میں یوم عاشور کی سیکیورٹی کے لیے کینٹیزر لگائے گئے
اسلام آباد میں یوم عاشور کی سیکیورٹی کے لیے کینٹیزر لگائے گئے

ماضی کی نسبت اس سال محرم الحرام کے جلوس اور مجالس پرامن ماحول میں منعقد ہوئیں اور محرم الحرام کے پہلے عشرہ میں کسی طرح کی دہشت گرد کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ماضی میں مختلف جلوسوں اور مجالس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے ایک ویڈیو پیغام میں یوم عاشور کے پرامن اختتام پر کہا کہ ’’اللہ کا شکر ہے کہ آج یوم عاشورہ خیر و عافیت سے گزرا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سلام کرتا ہوں، خصوصاً ان جوانوں کو جنہوں نے انتھک محنت کی اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان امن کا گہوارہ ہے۔ پاکستان کے تمام اداروں نے بے مثال قربانی دی جس کا سہرا ٹیم ورک کو جاتا ہے‘‘۔

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ’’آج کا دن ہمیں درس دیتا ہے کہ ظلم کا سامنا کرنا ہے اور ظالم کے آگے سر نہیں جھکانا اور نہتوں کے سر پر ہاتھ رکھنا ہے، ہر مسالک، مذہب، اکائیوں اور ہر سوچ اور فکر کے لوگوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG