رسائی کے لنکس

نوجوانوں کو بہتر مستقبل کی امید دلانا بہت ضروری


فائل فوٹو

ورلڈ اکنامک فورم کی طرف سے انسانی سرمائے (ہیومن کیپیٹل) سے متعلق سال 2017ء کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 130 ممالک میں پاکستان کا نمبر 125 واں ہے۔

کسی بھی ملک کی نوجوان آبادی اس کے لیے سرمایہ ہوا کرتی ہے جسے درکار تعلیم اور تربیت فراہم کرکے ملکی ترقی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پاکستان میں تعلیم اور خاص طور پر فنی تربیت پر عدم توجہی کے باعث ایسے خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ملک کی کل آبادی کے تقریباً 60 فیصد حصے پر مشتمل جوان طبقہ آنے والے برسوں میں ملکی معیشت پر بوجھ بننے کے ساتھ ساتھ جرائم اور شدت پسندی کی راہ اختیار کر سکتا ہے۔

حال ہی میں ورلڈ اکنامک فورم کی طرف سے انسانی سرمائے (ہیومن کیپیٹل) سے متعلق سال 2017ء کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 130 ممالک میں پاکستان کا نمبر 125 واں ہے اور پاکستان میں اس سرمائے سے بھرپور فائدہ نہ اٹھا سکنے کی وجوہات میں اسکولوں میں بچوں کا کم داخلہ، ناقص بنیادی تعلیم اور فنی تربیت کا فقدان بتائی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ملکوں میں انسانی سرمائے کے استعمال کی درجہ بندی ان کی صلاحیت، ترقی، تعیناتی اور اس کی بنیادی سوجھ بوجھ کو کام میں لاتے ہوئے ان کے مصرف کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر اے ایچ نیر کہتے ہیں کہ پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور یہ بچے جب بڑے ہوں گے تو یہ صرف مزدوری اور مشقت والے کام ہی کر سکیں گے اور اس طرح آبادی کے ایک بڑے حصے کی صلاحیت قومی سطح پر ضائع ہو جائے گی۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تعلیم کا شعبہ ایسے ڈگری یافتہ لوگ پیدا کرتا ہے جن کی صلاحیت کم اور توقعات زیادہ ہوتی ہیں اور جب یہ نوجوان عملی زندگی میں آتے ہیں تو انھیں اپنی توقعات کے برعکس ماحول ملتا ہے جس سے وہ بھرپور طور پر نمٹنے کے قابل نہیں ہوتے۔

"ہمارے ہاں سیدھے سادھے لگے بندھے تعلیم کے میدان ہیں، فنی تعلیم بالکل نہیں ہے۔ اس قدر نوجوان آبادی کے لیے جو فائدہ مند چیز ہوتی ہے وہ ایک بھرپور فنی تعلیم ہوتی ہے اور وہ ایسی کہ جو انجینیئرنگ کی ڈگر سے کم تر ہو لیکن ایک بہت اچھا روزگار فراہم کرنے والی چیز ہو گی اور صنعتی شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہوگی۔ یہ ہمارے پاس نہیں ہے۔"

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی وسائل کی ترقی کے رکن اور حکمران جماعت کے ایک سینئر رہنما رانا محمد افضل اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ملک میں فنی تربیت کے شعبے پر توجہ کی اشد ضرورت ہے اور ان کے بقول اس ضمن میں کام کیا جا رہا ہے۔

"اس شعبے میں نجی شعبہ اتنا زیادہ شامل نہیں ہے اور یہ سب حکومت پر ہی منحصر ہوتا ہے اور حکومت کو اس پر توجہ دینی ہے۔ اس بارے میں ہماری دوسرے ملکوں کی حکومتوں سے بھی بات چل رہی ہے اور این جی اوز کے ساتھ بھی کہ یہ شعبہ ہے جس کے اندر ہمیں بہت بڑھا کر سرمایہ کاری کرنی ہے۔۔۔ اس پر کام ہو رہا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو پوری طرح ادراک ہے کہ ملک کو ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فنی تربیت حاصل کرنے والے افراد اپنا کام بھی شروع کرنے کی صلاحیت کے حامل ہو جاتے ہیں تو اسی لیے حکومت اس پر اب توجہ بھی دے رہی ہے۔

ڈاکٹر اے ایچ نیر کہتے ہیں کہ تعلیم اور فنی تربیت کے علاوہ حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ وہ اپنی نوجوان آبادی میں بہتر مستقبل کی امید پیدا کریں اور ان کے لیے رستے بنائیں تاکہ انھیں اپنی زندگی بامقصد معلوم ہو اور وہ شدت پسندوں کے ہاتھوں میں نہ جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG