رسائی کے لنکس

پاکستان: انسدادِ دہشت گردی کی نئی پالیسی تیار


فائل

این اے سی ٹی اے کے اہل کار نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے منظوری دیے جانے کے بعد، عمل درآمد کی غرض سے نئی پالیسی صوبوں کے حوالے کی جائے گی

ملک میں انتہا پسندی کا صفایا کرنے کے لیے پاکستان میں انسداد دہشت گردی سے وابستہ حکام نئی پالیسی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ لیکن، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک سے خونریزی سے نجات کے لیے ضروری ہے کہ حکمت علمی پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے۔

پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نے، جو انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی وضع کرتا ہے اور اس کی نگرانی کرتا ہے، نئی پالیسی ترتیب دی ہے، جسے ’نیشنل کاؤنٹر اکسٹریمزم پالیسی (این سی اِی پی)‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس پالیسی کے تحت انتہا پسندی اور شدت پسندی کا صفایا کرنے کے لیے سماجی اور تعلیمی اصلاحات اور بہتر عمل داری کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔

ایک بیان میں انسداد دہشت گردی کی کمیشن کے اعلیٰ اہل کار، احسان غنی نے بتایا ہے کہ ’’این سی اِی پی کا لائحہ عمل چھ میدانوں پر محیط ہے، جس کا مقصد ریاست اور شہریوں کے درمیان مضبوط تعلق قائم کرنا، نوجوانوں اور غیر اہم خیال کیے جانے والے عناصر کو شامل کرنا، تعلیمی نظام کی اصلاح، جس میں مذہبی تعلیم بھی شامل ہوگی، اور کشادہ دلی اور بقائے باہمی کے ماحول کو پروان چڑھانا شامل ہوگا‘‘۔

کیا مدارس قصور وار ہیں؟

این اے سی ٹی اے کے اہل کار نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے منظوری دیے جانے کے بعد، عمل درآمد کی غرض سے نئی پالیسی صوبوں کے حوالے کی جائے گی۔

’این اے سی آی اے‘ کے سربراہ نے بتایا کہ نئی پالیسی میں تعلیمی شعبے میں اصلاحات بھی تجویز کی جائیں گی، جن میں مدرسے کا نظام شامل ہے، جس میں ’’کھلے دل سے اور بقائے باہمی کی فضا پیدا کرنے پر زور دیا جائے گا‘‘۔

ملک میں غیر رجسٹر شدہ ہزاروں مدارس یا مذہبی اسکول موجود ہیں، جن کے وجہ سے، ماہرین کہتے ہیں کہ ملک میں شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

نوجوان نظریاتی تعلیم کی جانب راغب

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنے حلقہٴ اثر کی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

پاکستانی روزنامہ ’ڈان‘ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہٴ سندھ کی جیلوں میں قید 500 شدت پسندوں میں سے 64 کے پاس ماسٹرز کی ڈگری جب کہ 70 کے پاس بیچلر کی ڈگری ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ نئی پالیسی ایسے وقت سامنے آ رہی ہے جب امریکی حکام اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے حالیہ دِنوں پاکستان ہدف تنقید بن چکا ہے، جس کا سبب ملک کے اندر پیدا ہونے والی شدت پسندی اور ملک سے انتہاپسندی کے خاتمے میں ناکامی ہے۔

سعد محمد خان ایک ریٹائرڈ فوجی اہل کار ہیں اور پاکستان کے ایک دفاعی تجزیہ کار ہیں۔ اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’حالیہ دِنوں پاکستان پر زبردست دباؤ ڈالا گیا، خاص طور پر ملک میں شدت پسند گروپوں کی موجودگی کی بنا پر، جس کی وجہ سےعلاقائی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں‘‘۔ بقول اُن کے، ’برکس کے بیان سے پاکستان میں تشویش پھیلی ہے‘‘۔

گذشتہ ہفتے، ’بی آر آئی سی ایس‘ کے سربراہوں نے، جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، پاکستان میں موجود شدت پسند گروپوں کی موجودگی پر اظہارِ تشویش کیا، جسے اُنھوں نے علاقائی سلامتی کے لیے مسئلہ قرار دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG