رسائی کے لنکس

قید و بند کے خطرات، پاکستانی بلاگر کی ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو


تین ہفتے گزرنے کے بعد، وہ پراسرار حالت میں رہا ہوئے۔ پاکستان میں اپنے اہل خانہ اور احباب کی جانب سے نتائج بھگتنے کے خوف کے باعث، گورایہ لاپتا ہونے کی بپتا پر لب کشائی پر تیار نہیں آیا اُنھیں کہاں رکھا گیا یا اُن کے اغواکار کون تھے؟

وقاص گورایہ نے اپنے آبائی وطن پاکستان واپس جا کر باقی زندگی وہیں گزارنے کی ٹھانی تھی، جب اُن کی بیوی، جو نیدرلینڈز میں رہتی ہیں، اِس ماہ پوسٹ گریجوئیٹ تعلیم مکمل کرنے والی تھیں۔

سماجی میڈیا کے اِس سرگرم کارکن کے لیے اب یہ خیال نا ممکن سا ہو چکا ہے، جنھوں نے سیاسی آگہی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پاکستان میں مذہبی عدم رواداری اور شدت پسندی کے خلاف آواز بلند کرنے کی غرض سے بلاگ لکھے، ِجن کی اُنھیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔

گورایہ ’انفارمیشن ٹیکنولوجی‘ کے ’کنسلٹینٹ‘ ہیں، جو جنوری میں پاکستان کے دیگر چار سیکولر سرگرم کارکنون کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہوئے، جس گروپ نے ’’لاپتا بلاگرز‘‘ کے نام سے شہرت پائی۔

تین ہفتے گزرنے کے بعد، وہ پراسرار حالت میں رہا ہوئے۔ پاکستان میں اپنے اہل خانہ اور احباب کی جانب سے نتائج بھگتنے کے خوف کے باعث، گورایہ لاپتا ہونے کی بپتا پر لب کشائی پر تیار نہیں آیا اُنھیں کہاں رکھا گیا یا اُن کے اغواکار کون تھے؟

گورایہ نے نیدرلینڈز سے ٹیلی فون پر ’وائس آف امریکہ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ’’ یہ شدت پسندی کے خلاف قلم اٹھانے اور پاکستان جیسے ملک میں اسٹیبلشمنٹ پر نکتہ چینی کرنے کا خمیازہ تھا‘‘۔

بقول اُن کے، ’’پاکستان کے لیے یہ ایک دشوار گزار شعبہ ہے، اس لیے ہر کوئی اِس پر بات کرنے سے کَنی کتراتا ہے‘‘۔

پاکستان مخالف نہیں

گذشتہ سال پاکستان جانے سے پہلے، گورایہ نیدرلینڈز میں مقیم تھے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ’’الجھن کھڑی ہو سکتی ہے۔ لیکن، ہم کبھی بھی پاکستان مخالف یا اسلام مخالف یا پھر معاشرے کے مخالف نہیں رہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہم ہزیمت خوردہ نہیں جو کسی اندھیرے میں بھٹک رہے ہوں اور منفی باتوں پر بلاگنگ کی طبع آزمائی کر رہے ہوں۔ ایسا معاملہ ہرگز نہیں‘‘۔

گورایہ نے کہا کہ اگر اُنھیں محکوم بنانے والوں کی کوشش یہ تھی کہ وہ خاموش ہوجائیں، تو واقعی یہ سعی کارگر ثابت ہوئی۔ کم از کم اِن دِنوں، وہ سماجی میڈیا پر اپنی سرگرمی جاری رکھنے پر ہرگز تیار نہیں۔

اُن کے الفاظ میں ’’اغوا کیا جانا، اس خوف کا محض 10 فی صد ہے۔ باقی 90 فی صد کیفیت اُس وقت نمودار ہوتی ہے جب آپ کو رہا کیا جاتا ہے۔ میں بلاگ لکھتا رہوں گا۔ لیکن، اس کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا‘‘۔

گورایہ کی بیوی، میشا سعید نے بتایا کہ ’’وقاص کے اغوا ہونے نے اہل خانہ کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جس صدمے سے نکلنے میں ہمیں کافی وقت لگے گا۔ جب وقاص واپس آیا تو وہ کئی دِنوں تک سو نہیں سکتا تھا۔ بس وہ سارا وقت مجھے اور ہمارے بیٹے کی جانب نظریں جمائے رکھتا تھا‘‘۔

ہر سمت سے دباؤ کے نتیجے میں، پاکستان ایک خطرناک جگہ بن چکا ہے، یہاں تک کہ صحافیوں کے لیے بھی ایک مہلک ترین ملک بن چکا ہے۔ ’رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف)‘ کی جانب سے مرتب کردہ عالمی آزادیِ صحافت کی فہرست میں اِس وقت پاکستان 147ویں نمبر پر ہے۔


گروپ کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ’’صحافیوں کو انتہاپسند گروپ، اسلام نواز تنظیمیں اور پاکستان کے خوفناک انٹیلی جنس ادارے ہدف بناتی ہیں، جو تمام ’آر ایس ایف‘ کی آزادیِ صحافت کی شکاری فہرست میں شامل ہیں۔ حالانکہ، ایک دوسرے کے خلاف صف آراٴ ہیں، وہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے مذہبی بے حرمتی کے اقدامات کی مذمت کے لیے ہمہ تن تیار ہیں‘‘۔


انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نگاہ رکھنے والے ادارے، ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے حالیہ دِنوں ایک کھلے خط میں حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ بلاگرز، سرگرم سماجی کارکنان اور صحافیوں کی زندگی کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔


سکیورٹی اداروں پر شبہات


انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان اور قانون ساز کہتے ہیں کہ لاپتا ہونے کے معاملات، جن میں اذیت کا معاملہ بھی شامل ہے، اب پاکستان میں روز کا معمول بن چکے ہیں اور یہ کہ ملک کے سلامتی کے ادارے اِس کے ذمے دار ہیں۔


بریڈ ایڈمز، ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے ایشیا کے سربراہ ہیں۔ بقول اُن کے، ’’انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور غیر سرکاری تنظیمیں، وسیع تر برادری اور صحافی یہ گردانتے ہیں کہ اِن بلاگرز کو پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے اغوا کیا تھا‘‘۔


ایڈمز کے الفاظ میں ’’اکثر و بیشتر، لاپتا افراد سے بدسلوکی عام ہے، جب کہ رہا ہونے پر اُنھیں متنبہ کیا جاتا ہے کہ لب کشائی کی صورت میں، اُن کے یا اُن کے اہل خانہ یا احباب کے خلاف انتقامی کارروائی ہو سکتی ہے۔ مجھے صحیح علم نہیں کہ بلاگرز کے معاملے میں یہی کچھ ہوا‘‘۔


پاکستان کی وزارتِ داخلہ اور فوج بلاگرز کے اغوا سے کسی سر و کار یا پھر ماضی کے چند برسوں کے دوران دیگر سرگرم کارکنوں کے خلاف کسی اقدام میں ملوث ہونے کی رپورٹوں کو بارہا اور ٹھوس طریقے سے تردید کر چکی ہے۔


میجر جنرل آصف غفور، مسلح افواج کے شعبہٴ ابلاغ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے ’وائس آف امریکہ‘ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’بلاگرز کے اغوا سے فوج یا انٹیلی جنس اداروں کا قطعی کوئی سر و کار نہیں‘‘۔


پاکستانی دفاعی تجزیہ کار، آئشہ صدیقہ سمجھتی ہیں کہ بلاگرز کو اِس لیے ایک مثال بنایا گیا چونکہ اُنھوں نے حساس سیاسی امور کے حوالے سے رپورٹنگ کی حدیں عبور کیں، جنھیں طاقتور فوج کنٹرول کرتی ہے۔


صدیقہ نے ’وی او اے‘ کو بتایا کہ ’’ریاست نہیں چاہتی کہ لوگ اس بات کو یاد رکھیں کہ بلوچستان کو کس طریقے سے چلایا جا رہا ہے۔ لازمی طور پر، یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، اور ضروری ہے کہ اسے اِسی طور سے نمٹا جائے، بجائے فوجی انداز اپنائے‘‘۔


گورایہ اور اُن جیسے متعدد احباب نے سنہ 2011 میں سماجی میڈیا کی تحریک کا آغاز کیا، جو ’’ایک طرح کا مکالمہ ہے‘‘۔


گورایہ نے کہا کہ ’’سلمان تاثیر کا قتل میری زندگی کا ایک فیصلہ کُن موڑ تھا، جنھیں 2011ء میں ہلاک کیا گیا، کیونکہ اُنھوں نے ناموسِ رسالت کے قانون پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ وقت تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ ہمیں بولنا ہوگا‘‘۔


حاضرین و ناظرین


سارا مقصد آگہی پیدا کرنا تھا۔ ’موچی‘ کے عنوان سے اُن کے بے نام ’فیس بک پیج‘ پر بلاگ شائع ہوئے، جنھیں فوری طور پر پذیرائی میسر آئی۔


اُن کے لاپتا ہونے کے بعد، وہ مستقبل کے بارے میں نئی سوچوں میں گم ہوگئے۔ سماجی میڈیا پر بلاگرز کے خلاف ایک مہم چلائی گئی، جب کہ ٹیلی ویژن کے چند میزبانوں تک بھی اُن کی مذمت کی۔ عامر لیاقت حسین نے برداشت دکھائی، جب کہ اُن کے فیس بک کے صفحات کو ’’مذہبی بے حرمتی‘‘ قرار دیا گیا۔ الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے نفرت انگیز کلمات کا الزام لگاتے ہوئے، اُن کے ٹیلی ویژن پر آنے پر بندش عائد کر دی۔


گورایہ نے بتایا کہ ’’اِس وقت، یوں لگتا ہے کہ شاید میں کبھی پاکستان نہیں لوٹ سکوں گا۔ مذہبی بے حرمتی کے زمرے میں مجھ پر ناپسندیدگی کی مہر ثبت ہو چکی ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے اپنی وضاحت میں کچھ بھی کہوں۔ وہ مجھے نہیں سنیں گے‘‘۔


حقوقٕ انسانی کا دفاع کرنے والے، سماجی کارکنان اور بلاگرز کے اہل خانہ سمجھتے ہیں کہ بےحرمتی پر مبنی اِن الزامات کا مقصد حکومت اور فوج پر تنقید پر سرگرم کارکنان کو سزا دینا ہوتا ہے۔


صدیقہ کے بقول، ’’پاکستان میں آواز دبانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی پر مذہبی بے حرمتی کا الزام لگایا جائے، پھر باقی کام عوام خود ہی کر دیں گے، جو اپنے ہی انداز سے انصاف کے تقاضے پورے کریں گے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG